مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 336
336 زبان سے نکلتا ہے اسے وہ صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں سمجھتا بلکہ اس کے دل اور دماغ میں یہ خیال موجود ہوتا ہے کہ یہ وہ خط ہے جو میں اپنے خدا کے پاس بھیج رہا ہوں۔پس ہر سبحان ربی العظیم اسے مزیدار لگتا ہے۔ہر رکوع میں اسے مزہ آتا ہے۔ہر سجدہ میں اسے لذت آتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے خدا کو بلاوا بھیج رہا ہوں۔اس کا سبحان ربی الا علی کہنا کیا ہوتا ہے ؟ ایک خط ہو تا ہے۔ایک چٹھی ہوتی ہے جو وہ اپنے خدا کے پاس بھیجتا ہے اور اس سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اس کی مدد کے لئے آئے۔جیسے مچھلیاں پکڑنے والے دریا میں کنڈیاں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اور اگر ذرا بھی رہی ہلتی ہے تو ان کا دل دھڑکنے لگ جاتا ہے کہ آگئی مچھلی۔اسی طرح جب ایک مومن تسبیح کرتا ہے تو اس کا دل دھڑکنے لگ جاتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں میرا رب مجھ سے ملنے کے لئے آجائے گا۔غرض انسان اگر چاہے تو اپنے ہر کام کو دلچسپ بنا سکتا ہے اور در حقیقت یہ صرف خیالات بدلنے کی بات ہوتی ہے۔اگر ہم ضرورت اور اہمیت کو سمجھ لیں تو ہر چیز کو دلچسپ بنا سکتے ہیں۔پس علمی اور اخلاقی مقابلے بھی دلچسپ بنائے جاسکتے ہیں اور میں خدام الاحمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ وہ ایسے اجتماع کے موقعہ پر اس قسم کے مقابلے ضرور رکھا کریں۔اسی طرح ہر سال اس قسم کے سوالات بھی کرنے چاہئیں کہ بتاؤ اس سال قرآن کریم کی سورتیں کس کس نے حفظ کی ہیں اور کتنی حفظ کی ہیں۔پھر جو شخص سب سے زیادہ قرآن کریم حفظ کرنے والا ثابت ہو اسے انعام دیا جائے۔اسی طرح احادیث کے متعلق سوال کیا جائے کہ اس سال کتنی احادیث حفظ کی گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کے متعلق سوال کیا جائے کہ وہ کتنی پڑھی گئی ہیں۔اس طرح نو جوانوں میں علمی مذاق ترقی کرے گا اور ہر سال ان کو یہ تحریک ہوتی چلی جائے گی کہ وہ مذہبی اور اخلاقی امور کی طرف توجہ کریں۔نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کا دین بھی ترقی کرے گا۔تبلیغ بھی ترقی کرے گی اور اسلامی مسائل کی حقیقت بھی ان پر زیادہ واضح ہو جائے گی۔اسی طرح قرآن کریم کے ترجمہ کے متعلق ہر سال سوال کرنا چاہئے کہ خدام میں سے کتنے ہیں جنہیں سارے قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے۔فرض کرو اس وقت مقامی اور بیرونی خدام آٹھ نو سو کے قریب ہیں تو ان سب سے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ ان میں کتنے ہیں جنہیں سارے قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے۔بلکہ یہ سوال میں اسی وقت کر لیتا ہوں تاکہ معلوم ہو کہ کتنے نوجوان سارے قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں۔(اس کے بعد حضور نے تمام خدام سے فرمایا کہ قادیان کے رہنے والوں میں سے جو نوجوان سارے قرآن کا ترجمہ جانتے ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔اس پر ۱۵۲ نوجوان کھڑے ہوئے۔پھر حضور نے فرمایا بیرونی خدام میں سے جن کو سارے قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہو وہ کھڑے ہو جائیں۔اس پر صرف ۳۲ نوجوان کھڑے ہوئے۔سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا ، قادیان کے خدام میں سے ۱۵۲ نوجوان ایسے ہیں جنہیں سارا قرآن شریف با ترجمہ آتا ہے اور بیرونی خدام میں سے صرف ۳۲ ایسے ہیں جنہوں نے سارا قرآن شریف پڑھا ہوا ہے۔دیکھو یہ ہمارے لئے کیسی آنکھیں کھولنے والی بات ہے اور کس طرح یہ افسوسناک حقیقت ہم پر روشن ہوئی ہے کہ ہم میں سے بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں نے بھی قرآن شریف اچھی طرح نہیں