مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 334

334 نزدیک آئندہ ایسے موقعہ پر بعض لیکچر ایسے رکھنے چاہئیں جن میں موٹے موٹے مسائل کے متعلق اسلام اور احمدیت کی تعلیم کو بیان کر دیا جائے۔اس طرح بعض امتحان مقرر کرنے چاہئیں اور دیکھنا چاہئے کہ خدام الاحمدیہ کو احمدیت اور اسلام سے تعلق رکھنے والے مسائل سے کسی حد تک واقفیت ہے۔جس طرح آئی۔سی۔ایس میں ایک جنرل نالج کا پرچہ ہوتا ہے اسی طرح احمدیت کے متعلق ایک جنرل نالج کا پرچہ رکھنا چاہئے اور مختلف سوالات نوجوانوں سے دریافت کرنے چاہئیں۔مثلا یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتنی عمر تھی یا آپ کے کسی الہام کو پیش کر کے پوچھ لیا جائے کہ اس کا کیا مفہوم ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی کتاب کے متعلق دریافت کیا جائے کہ وہ کس موضوع پر ہے یا یہ دریافت کیا جائے کہ تمہارے نزدیک وفات مسیح کی سب بڑی دلیل کیا ہے۔یا نبوت کی کیا تعریف ہے یا ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کس قسم کی نبوت کو جائز سمجھتے ہیں اور کس قسم کی نبوت کو جائز نہیں سمجھتے۔یہ اور اسی قسم کے اور سوالات نوجوانوں سے دریافت کئے جائیں اور اس طرح پتہ لگایا جائے کہ انہیں مذہبی مسائل سے کہاں تک واقفیت ہے۔اس طرح علمی مذاق بھی ترقی کرے گا اور جو لوگ ست ہوں گے وہ بھی چست ہو جائیں گے۔اسی طرح اخلاق کے متعلق مختلف قسم کے سوالات دریافت کرنے چاہئیں۔مثلا یہ کہ اگر تم کو کوئی گالی دے تو تم کیا کرو گے یا اگر تم کو کوئی شخص مارنے لگ جائے تو تم کس حد تک مار کھاؤ گے اور کس حد تک اس کا مقابلہ کرو گے۔اسی طرح یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر تم دشمن کا مقابلہ کرو تو کس حد تک اس کا مقابلہ کرنا شریعت کے مطابق ہو گا اور کیسا مقابلہ شریعت کے خلاف ہو گا یا اگر کوئی شخص گالی دے تو کس حد تک صبر کرو گے اور کس حد تک خاموش رہنا بے غیرتی بن جائے گا۔پھر یہ کہ اگر تم گالی کا جواب دو تو کس حد تک شریعت تمہیں جواب دینے کی اجازت دیتی ہے اور کس حد تک نہیں دیتی۔ہمارے ملک میں عام طور پر چوہڑوں اور چماروں کی گالیاں ماں بہن کی ہوتی ہیں۔اب فرض کرو تمہارا ذہن کسی کی گالیاں سن کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ چپ رہنا بے غیرتی ہے، مجھے ان گالیوں کا جواب دینا چاہئے تو ایسے موقعہ پر بے شک شریعت یہ کہے گی کہ اگر تم جواب دینا چاہتے ہو تو دو۔مگر شریعت اس بات کو جائز قرار نہیں دے گی کہ تم بھی اس کے جواب میں ماں بہن کی گالیاں دینے لگ جاؤ۔یہ تو تم دوسرے کو کہہ سکتے ہو کہ تم بڑے کمینے اور بد اخلاق ہو۔تم نے بہت بڑا ظلم کیا جو ایسی گندی گالیاں دیں۔مگر شریعت تمہیں اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ جس طرح اس نے ماں بہن کی گالیاں دی ہیں اسی طرح تم بھی ماں بہن کی گالیاں دینی شروع کر دو۔پس نوجوانوں سے دریافت کرنا چاہیئے کہ جب کوئی شخص تمہیں گالیاں دے تو کس حد تک شریعت تمہیں اس کے جواب کی اجازت دیتی ہے اور کس حد تک نہیں دیتی۔ان سوالات کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس طرح نوجوانوں کے متعلق ہمیں یہ علم حاصل ہو تا رہے گا کہ وہ اسلامی مسائل کو کس حد تک سمجھتے ہیں اور خود ان کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ انہیں ہر کام کے کرتے وقت اسلامی شریعت پر عمل کرنا چاہئے اور اسے کسی حالت میں بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔