مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 333
333 فن دکھائیے۔اس نے لاٹھی لے کر ادھر ادھر ناچنا شروع کر دیا۔کبھی دائیں طرف مڑتا اور کبھی بائیں طرف۔میں نے کہا میں اسے فن تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔میں ایک شخص کو مقرر کرتا ہوں جو آپ پر حملہ کرے۔اگر اس کے حملہ سے آپ نے اپنے آپ کو بچالیا تو میں سمجھ لوں گا کہ بے شک آپ کو فن آتا ہے۔بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کالڑ کا عزیز عبد القادر جس کی عمر اس وقت چودہ پندرہ سال تھی اس وقت وہاں موجود تھا۔میں نے اسے چھڑی دی اور کہا اسے مارو۔اس نے ایک دو حملوں میں ہی اسے ضرب لگادی اور اس کافن اس کے کسی کام نہ آیا۔میں نے اسے کہا یہ تو کوئی فن نہیں۔ایک بچہ بھی آپ پر اپنے حملہ میں کامیاب ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگا یہ تو اناڑی ہے۔کوئی فن کا ماہر میرے مقابلہ میں لائیں۔میں نے کہا کہ مقابلہ تو اناڑیوں سے ہی ہو گا۔لڑائی میں ٹورنامنٹ تو نہیں ہو تا کہ ایک طرف سے بھی فن کے ماہر نکلیں اور دوسری طرف سے بھی فن کے ماہر نکلیں اور وہ اپنے اپنے اصول کے مطابق لڑنا شروع کر دیں۔لڑائی میں تو ایسا ہی ہو گا کہ دوسرا فریق اندھادھند مارنے کی کوشش کرے گا۔اس پر وہ بڑھا چلا گیا اور اس نے سمجھا کہ یہ بڑے ہی بیوقوف لوگ ہیں جو فن کی قدر کرنا نہیں جانتے۔حالانکہ ہم تو اسی کو فن سمجھتے ہیں کہ چاہے کوئی غصہ میں مارے چاہے اصول کو نظر انداز کر کے بے تحاشا مارے، ہر صورت میں وہ اس کے حملہ سے اپنے آپ کو بچالے اور اگر کوئی شخص ایسے حملہ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا تو وہ لاٹھی کے فن کا ماہر نہیں بلکہ ایک کھیل کھیلتا ہے۔پس آئندہ اس کی بھی مشق کرائی جائے اور اناڑیوں سے حملہ کرا کر دیکھا جائے کہ وہ کس حد تک ان حملوں سے اپنے آپ کو بچاسکتے ہیں۔اسی طرح صرف ایک شخص کے حملہ سے اپنے آپ کو بچالینا کوئی خاص خوبی نہیں بلکہ فن میں ایسی مہارت حاصل کرنی چاہئے کہ اگر ایک وقت میں دو دو تین تین چار چار شخص بھی حملہ کردیں تو وہ ان سب کے حملہ سے اپنے آپ کو بچالے۔ایسے شخص کو ہم بے شک یہ کہہ سکیں گے کہ وہ اپنے فن کا ماہر ہے۔لیکن اگر وہ اناڑیوں کے حملہ تے تو اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا۔ہاں چار گنگا سکھے ہوئے اس پر حملہ کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بچالیتا ہے تو ایسے شخص کو ہم اچھا کھلاڑی تو کہہ سکیں گے اچھا فوجی او راچھا سپاہی نہیں کہہ سکیں گے۔اس کے بعد میں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ باتیں تو تمہاری حقیقی کام اخلاقی اور علمی رنگ میں ترقی کھیلوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کافائدہ تمہارے جسموں کو پہنچ سکتا ہے لیکن تمہارا کام صرف ان کھیلوں کی طرف متوجہ ہونا اور اپنے جسموں کو درست کرناہی نہیں بلکہ تمہارا حقیقی کام اخلاقی اور علمی رنگ میں ترقی کرنا ہے۔میں نے اپنے خطبات میں بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے اور اس وقت بھی میں ایک ٹریکٹ میں جو دفتر خدام الاحمدیہ نے شائع کیا ہے ، یہی پڑھ رہا تھا کہ خدام الاحمدیہ کو مذہبی اخلاقی اور علمی رنگ میں کام کرنے کے لئے منظم کیا گیا ہے۔پس انہیں اپنے اس کام کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔انہیں چاہئے تھا کہ اس موقعہ پر ان کاموں کے بھی مقابلے رکھتے۔جب خدام الاحمدیہ کا اصل کام یہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ تعلیمی اور اخلاقی اور مذہبی رنگ کے مقابلے اپنے ایسے اجتماع میں نہ رکھے جائیں۔میرے