مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 332

332 اسی طرح لاٹھی چلانے کا فن نہایت اعلیٰ درجے کی چیز ہے اور مجھ پر اس کے متعلق پہلے بہت اچھا اثر تھا لیکن آخر ایک اناڑی اور واقف کی جب آپس میں لڑائی ہوئی تو اناڑی نے بہت اچھا کام کیا مگر واقف رہ گیا۔میں دیکھنا بھی یہی چاہتا تھا کہ مقررہ اصول کے مطابق مارنے والے ایسی لڑائیوں میں کس حد تک کامیاب ہوا کرتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ حساب سے مارنا ایک اچھی چیز ہے مگر آخر دوسرے نے تو حساب کو نہیں دیکھنا۔وہ تو بے تحاشا مار تا چلا جائے گا۔اس لئے اپنے فن میں ماہر اس شخص کو کہا جائے گا جو ہر ایسے شخص کے حملہ سے اپنے آپ کو بچا سکے جو اصول کو نظر انداز کر کے بے تحاشا مارنے کے لئے دوڑ پڑتا ہو۔اگر یہ خوبی کسی میں نہیں اور وہ صرف مقررہ اصول کے مطابق لاٹھی چلانا اور اس کے مطابق روکنا جانتا ہے اپنے آپ کو اناڑیوں کے حملہ سے جو بغیر کسی اصول کے مارتے ہیں بچا نہیں سکتا تو اسے ہم ہر گز اچھا سپاہی نہیں کہہ سکتے کیونکہ دشمن اصول کو نہیں دیکھا کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لطیفہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ تھا جسے بیٹھے بیٹھے یہ جنون پیدا ہوا کہ ملک میں اتنی بڑی فوج بالکل بے فائدہ ہے اور اس پر جو کچھ روپیہ خرچ ہو رہا ہے ضائع جارہا ہے۔آخر یہ قصائی کس کام کے ہیں۔رو ز بکرے ذبح کرتے ہیں اور روزانہ چھرا چلاتے ہیں۔یہ سب ہماری فوج ہے۔ان کے ہوتے ہوئے کسی اور فوج کی ضرورت نہیں۔چنانچہ اس نے تمام فوج کو موقوف کر دیا اور قصائیوں کے نام حکم جاری کر دیا کہ اگر ملک پر کوئی دشمن حملہ آور ہوا تو تمہیں اس کے مقابلہ کے لئے نکلنا پڑے گا۔کسی بادشاہ نے جب یہ سنا کہ اس طرح بادشاہ کا دماغ خراب ہو گیا ہے اور اس نے تمام فوج موقوف کر دی ہے تو اس نے حملہ کر دیا۔بادشاہ نے فور اقصابوں کے نام حکم بھیجا کہ لڑائی کے لئے میدان میں جاؤ۔چنانچہ سب قصاب لڑنے کے لئے چلے گئے اور بادشاہ اس انتظار میں اپنے دربار میں بیٹھ گیا کہ ابھی وہ قصاب دشمن کی لاشوں کو گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے مگر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ قصائی فریاد فریاد کرتے ہوئے بادشاہ کے دربار میں آئے۔بادشاہ نے کہا کیا ہوا۔قصائی کہنے لگے حضور دشمن کو سمجھائیے۔ہم تو دو دو چار چار آدمی مل کر ان میں سے ایک شخص کو پکڑتے ہیں اور اس کی ٹانگیں باندھ کر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر اسے ذبح کرتے ہیں مگر " اوہ تے دوا دو ماری جاندے نے " یعنی وہ بے تحاشہ مارتے جاتے ہیں اور کسی اصول کی پرواہ نہیں کرتے۔اتنے میں دشمن بھی آپہنچا اور اس نے ملک پر قبضہ کر لیا۔تو اصل غرض دشمن کو مارنا ہوتی ہے۔یہ نہیں ہوتی کہ تم دائیں طرف مار و یا بائیں طرف مار و۔جب تک اس رنگ میں مشق نہ ہو اور جب تک لاٹھی چلانے والا ہر اس شخص کے حملہ کو روک نہیں سکتا جو بے تحاشا اور بقول پنجابیوں کے دوا دو مارتا چلا جاتا ہو اس وقت تک ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ سپاہی ہے۔اسے ہم قصائی تو کہہ سکتے ہیں مگر سپاہی نہیں کہہ سکتے۔ایک دفعہ یہاں قادیان میں اجمیر کا ایک شخص آیا۔وہ سارے ہندوستان میں لاٹھی کے فن کا بہت بڑا ماہر سمجھا جاتا تھا۔میں ان دنوں شملہ میں تھا۔یہاں کے دوستوں نے اسے میرے پاس بھیجوا دیا اور لکھا کہ اگر اس شخص کی خدمات حاصل کرلی جائیں تو جماعت کے لوگوں کو یہ فن آجائے گا اور اس کا ہمیں بہت بڑا فائدہ ہو گا۔وہ بڈھا آدمی تھا اور اپنے آپ کو بڑا ہو شیار سمجھتا تھا۔میں نے اس سے کہا کہ آپ اپنا !