مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 330
330 مختلف جگہوں پر گیہوں کے دانے پڑے ہوئے دیکھے تھے۔جس سے میں یہ سمجھا کہ اونٹ پر گیسوں لدا ہو ا تھا۔اسی طرح تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر مجھے تیل کا ایک ایک قطرہ گرا ہوا دکھائی دیا۔جس سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اونٹ پر تیل بھی تھا۔اس کے بعد میں نے اونٹ کے کانے ہونے کا نتیجہ اس طرح نکالا کہ میں نے دیکھا رستہ میں صرف ایک طرف کی جھاڑیوں اور درختوں کے پتے کھائے ہوئے تھے دوسری طرف کی جھاڑیوں اور درختوں کے پتے سلامت تھے۔میں نے سمجھا کہ اونٹ ضرور کانا تھا۔تبھی اس نے ایک طرف کے پتوں کو تو کھایا مگر دو سری طرف کے پتوں کو چھوڑ دیا اور اس کے دانت کا نقص میں نے اس طرح معلوم کیا کہ ایک پتے کو میں نے غور سے دیکھا تو اس پر ایک دانت کا نشان نہیں ملتا تھا۔اس سے میں نے سمجھ لیا کہ اونٹ کے دانتوں میں نقص تھا۔اب بظا ہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں مگر انسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے اس نے بڑے بڑے نتائج نکال لئے۔تو یہ مشقیں نہایت ہی اہم ہیں۔اسی طرح ذائقہ کی مشق ہے۔لمس کی مشق ہے۔ان تمام مشقوں سے بڑے بڑے کام لئے جاسکتے ہیں۔لمس کی مشق سے ہی ایسے ایسے کام کئے جاسکتے ہیں کہ دوسرے ان کا قیاس بھی نہیں کر سکتے۔اگر دشمن ہمارے پاس ہی ہو اور ہم اپنے کسی آدمی کے ذریعہ دشمن کے متعلق دو سروں کو اطلاع دینا چاہتے ہوں تو ایسے وقت پر لمس کی قوت ہی کام آسکتی ہے۔اگر ہماری یہ قوت درست ہو تو ہم دو سرے کے ہاتھ پر تمام ضروری باتیں انگلی سے لکھ دیں گے اور وہ ان باتوں کا علم حاصل کر کے ان کے مطابق کارروائی کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔مگر یہ قوت بہت بڑی مشق چاہتی ہے کیونکہ ہاتھ پر انگلی سے حروف ڈالنا اور پھر دوسرے کا یہ سمجھ جانا کہ کیا حروف ڈالے گئے ہیں، یہ آسان کام نہیں بلکہ ایک لمبی مشق چاہتا ہے۔یہ چیزیں ایسی ہی ہیں جن سے جنگ میں بہت بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس جس کو تیز کرنے کے لئے لمبی مشق کی ضرورت کا اس طرح پتہ لگ سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص انگلی سے دوسرے کے ہاتھ پر لکھنے کی کوشش کرے تو اسے معلوم ہو گا کہ اول تو خود لکھنے والا ہی بھول جائے گا کہ اس نے کیا لکھا تھا۔پھر پڑھنے والا بھی ایک لمبے عرصہ کی مشق کے بعد ہی سمجھ سکتا ہے کہ کسی نے اس کے ہاتھ پر کیا لکھا ہے۔فرض کرو ایک شخص انگلی سے دوسرے کے ہاتھ پر " احمد " لکھتا ہے۔اب یہ یقینی بات ہے کہ وہ پہلی دفعہ یہ نہیں سمجھ سکے گا کہ اس کے ہاتھ پر کیا لکھا گیا ہے۔جب تم بتاؤ گے کہ تم نے ”احمد“ لکھا ہے تو آہستہ آہستہ وہ سمجھے