مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 325
325 طریق سے معلوم ہوتا ہے۔عین مجلس میں ایک دوسرے کو اپنے اپنے دلائل پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا جب خلافت کے لئے انتخاب ہوا تو اس پہلی خلافت کے موقعہ پر انصار اور مہاجرین دونوں گروہوں نے اپنے اپنے دلائل دیئے۔مہاجرین نے اس بات کے دلائل دیئے کہ کیوں مہاجرین میں سے خلیفہ ہونا چاہئے اور انصار نے اس بات کے دلائل دیئے کہ کیوں کم سے کم انصار میں سے بھی ایک خلیفہ ہونا چاہئے۔انصار کہتے تھے کہ ہم اس بات کے مخالف نہیں کہ مہاجرین میں سے کوئی خلیفہ ہو۔ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے بھی ایک خلیفہ ہو اور مہاجرین میں سے بھی ایک خلیفہ ہو۔غرض مجلس میں دلائل دیئے جاسکتے ہیں مگر یہ جائز نہیں کہ الگ اور مخفی طور پر دوسروں کو تحریک کی جائے کہ فلاں کے حق میں رائے دی جائے۔اس قسم کا پراپیگنڈہ اسلام کے بالکل خلاف ہے۔ہاں جیسا کہ میں نے بتایا ہے مجلس میں آکر اپنے اپنے دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں۔مثلا فرض کرو صدر کے انتخاب کے موقعہ پر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ نئے آدمیوں کو کام کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ یہ دلیل دے سکتا ہے کہ میں پرانے صدر کے خلاف نہیں مگر اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ نے آدمیوں کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے تاکہ انہیں بھی تجربہ حاصل ہو اور وہ بھی اس قسم کی ذمہ داری کا کام کرنے کے قابل ہو سکیں۔اس کے مقابلہ میں جو شخص پرانے صدر کا حامی ہو وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ جب ایک شخص کو تجربہ حاصل ہو چکا ہے تو اگر اسے ہٹا دیا جائے تو خدام الاحمدیہ کو اس کے تجربہ سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔غرض اپنے اپنے رنگ میں دونوں فریق دلائل دے سکتے ہیں اور اس میں کوئی حرج کی بات نہیں بلکہ اس طرح علمی ترقی ہوتی ہے۔ہاں اس وقت وقتی طور پر ایسا صدر ہونا چاہئے جو زبر دست اور بارعب ہو اور کسی کو مقررہ حدود سے باہر نہ نکلنے دے بلکہ جیسے پارلیمنٹ کے جلسوں میں ایسے موقع پر صدر کو سپاہیوں کی ایک جمعیت دے دی جاتی ہے نا کہ اگر کوئی نا فرمانی کرے تو پولیس کے ذریعہ اس کا تدارک کیا جائے اسی طرح انتخابات کے موقع پر جو وقتی طور پر صدر مقرر ہو اس کے ساتھ بھی نوجوانوں کا ایک گروہ ہونا چاہئے تاکہ اگر کوئی شخص نافرمانی کرے تو اسے مجلس سے نکالا جا سکے یا اسے مناسب سزا دی جائے۔اسی طرح دوسرے لوگ بھی صد ر اس وقت جو بھی حکم دے اس کو دلیری سے اور بغیر کسی کے لحاظ کے پورا کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔اس رنگ میں اگر کوئی کام کیا جائے اور باہر سے آنے والوں کی رائے ان کی جماعت کی تعداد کو ملحوظ رکھ کر شمار کی جائے تو اس طرح نہ صرف جماعتوں کو ان کا ایک حق دیا جا سکے گا بلکہ مرکز کو بھی آئندہ یہ خیال رہے گا کہ وہ ہر جماعت کی تعداد کو محفوظ رکھے۔فرض کرو ایک شخص کہتا ہے ہماری جماعت کی تعداد دو سو ہے۔ایسے موقع پر اگر مرکز کے پاس اس جماعت کی تعداد محفوظ ہوگی تو وہ بتا سکے گا کہ یہ تعداد درست ہے یا نہیں یا اس تعداد میں اتنی کمی بیشی ہے۔پس اس کے نتیجہ میں ایک طرف تو مرکز کو توجہ رہے گی کہ وہ تمام جماعتوں کو ایک نظام کے ماتحت لانے کی کوشش کرے اور دوسری طرف جماعتوں کو یہ احساس پیدا ہو گا کہ ہماری جماعت کی تعداد زیادہ ہو اور ہم وقت سے پہلے پہلے اپنی تعداد کو درج رجسٹر کرالیں۔پس ایک تو آئندہ سال سے اس بات کا انتظام کرنا چاہئے۔