مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 313
313 اس جھنڈے کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اسی طرح ایک دفعہ آپ ایک تلوار لائے اور فرمایا یہ تلوار میں شخص کو دوں گا جو اس کا حق ادا کرے گا۔کئی لوگوں نے اپنے آپ کو اس کے لئے پیش کیا مگر آپ نے ان میں سے کسی کو نہ دی۔اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے اور رسول کریم صلی یا لیلی نے وہ تلوار ان کو دے دی اور آپ نے فرمایا علی میں امید کرتا ہوں کہ تم اس تلوار کا حق ادا کرو گے۔چنانچہ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کا حق ادا کر دیا اور ایسے طور پر جنگ میں حصہ لیا کہ دشمن کو شکست ہو گئی۔ایک احمدی نوجوان کا جھنڈے کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اس کی حفاظت کرنا رسول کریم ملی کی اس سنت کی پیروی میں ہم نے بھی اپنی جماعت کا اور حضور کا اظہار خوشنودی ایک جھنڈا بنایا ہے۔ابھی پچھلے دنوں خدام الاحمدیہ کا ایک جلسہ ہوا تھا۔اس جلسہ میں باہر کی جماعتوں کی طرف سے بھی لوگ آئے تھے۔اس میں ایک ایسے واقعہ کا مجھے علم ہوا جو ایک حد تک میرے لئے خوشی کا موجب ہوا اور میں سمجھتا ہوں جس نوجوان سے یہ واقعہ ہوا ہے وہ اس قابل ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔اس لئے میں یہ واقعہ اپنے خطبہ میں بیان کر دیتا ہوں۔واقعہ یہ ہے کہ لاہور کے خدام جب جلسہ میں شمولیت کے لئے آرہے تھے تو اس وقت جبکہ ریل سٹیشن سے نکل چکی تھی اور کافی تیز ہو گئی تھی ایک لڑکے سے جس کے پاس جھنڈا تھا ایک دوسرے خادم نے جھنڈ ا مانگا۔وہ لڑکا جس نے اس وقت جھنڈا پکڑا ہوا تھا ایک چھوٹا بچہ تھا۔اس نے دوسرے کو جھنڈا دے دیا اور یہ سمجھ لیا کہ اس نے جھنڈا پکڑلیا ہے۔مگر واقعہ یہ تھا کہ اس نے ابھی جھنڈے کو نہیں پکڑا تھا۔اس قسم کے واقعات عام طور پر ہو جاتے ہیں۔گھروں میں بعض دفعہ دوسرے کو کہا جاتا ہے کہ پیالی یا گلاس پکڑاؤ اور دوسرا برتن اٹھا کر دے دیتا ہے اور یہ خیال کر لیتا ہے کہ اس نے پہلی یا گلاس کو پکڑ لیا ہو گا مگر اس نے ابھی ہاتھ نہیں ڈالا ہو تا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ برتن گر جاتا ہے۔اسی طرح جب اس سے جھنڈا مانگا گیا اور اس نے جھنڈا دوسرے کو دینے کے لئے آگے بڑھا دیا تو اس نے خیال کیا کہ دوسرے نے جھنڈا پکڑ لیا ہو گا مگر اس نے ابھی پکڑا نہیں تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جھنڈا ریل سے باہر جاپڑا۔مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ چھو ٹالڑ کا جس کے ہاتھ سے جھنڈا گر ا تھا فور انیچے کودنے لگا مگر وہ دو سر الڑ کا جس نے جھنڈ امانگا تھا اس نے اسے فورا روک لیا اور خود نیچے چھلانگ لگادی۔لاہور کے خدام کہتے ہیں ہم نے اسے اوندھے گرے ہوئے دیکھ کر سمجھا کہ وہ مر گیا ہے مگر فورا ہی اٹھا اور جھنڈے کو پکڑ لیا اور پھر ریل کے پیچھے دوڑ پڑا۔ریل تو وہ کیا پکڑ سکتا تھا۔بعد میں کسی دوسری سواری میں بیٹھ کر اپنے قافلہ سے آملا۔میں سمجھتا ہوں اس کا یہ فعل نہایت ہی اچھا ہے اور اس قابل ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔خدام الاحمدیہ نے اس کے لئے انعام مقرر کیا تھا اور تجویز کیا تھا کہ اسے ایک تمغہ دیا جائے مگر اس وقت یہ روایت میرے پاس غلط طور پر پہنچی تھی۔اس لئے میں نے اسے