مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 312

312 گویا اس نے دونوں کام کرلئے۔اپنے خیال میں اپنی قوم کی عزت کو بھی بچالیا اور پھر اپنے ہاتھ سے اپنی قوم کا جھنڈا تلف کرنے پر اس نے اپنے درد کا بھی اظہار کر دیا۔وہ ایک فوجی افسر تھا اور فوجی افسر کے لئے آنسو بہانا بھی برا سمجھا جاتا ہے مگر وہ اس وقت چیچنیں مار کر رونے لگ گیا۔بظاہر ایک انسان حیران ہو تا ہے کہ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ایک سمجھدار اور عقلمند انسان تھوڑے سے کپڑے اور لکڑی کے ضائع ہونے پر رو رہا ہے۔مگر جب کسی قوم کے افراد کے دلوں میں اس کے جھنڈے کی عظمت قائم کر دی جاتی ہے تو وہ انہیں اس بات کے لئے تیار کر دیتی ہے کہ اگر اپنے جھنڈے کی حفاظت کے لئے انہیں اپنی جانیں بھی قربان کرنی پڑیں تو بلا دریغ جانیں قربان کر دیں کیونکہ اس وقت تھوڑی سی لکڑی اور کپڑے کا سوال نہیں ہو تا بلکہ قوم کی عزت کا سوال ہو تا ہے جو تمثیلی زبان میں ایک جھنڈے کی صورت میں ان کے سامنے موجود ہوتا ہے۔میں نے کئی دفعہ پہلے بھی بیان کیا ہے کہ ہمیں صحابہ میں بھی اس قسم کی مثال نظر آتی ہے۔ایک جنگ میں ایک مسلمان افسر کے پاس اسلامی جھنڈا تھا۔وہ لوگ شاندار جھنڈے نہیں بنایا کرتے تھے بلکہ ایک معمولی سی لکڑی پر کالا کپڑا باندھ لیتے تھے۔مگر چاہے وہ کالا کپڑا ہوتا چاہے اس جھنڈے کی معمولی لکڑی ہوتی اس وقت سوال قوم کی عزت کا ہوا کر تا تھا۔یہ نہیں دیکھا جاتا تھا کہ جھنڈا قیمتی ہے یا معمولی بلکہ وہاں صرف اس بات کو ملحوظ رکھا جاتا تھا کہ قوم کی عزت اس بات میں ہے کہ اس جھنڈے کی حفاظت کی جائے۔بہر حال اس لڑائی میں عیسائیوں نے جن کے خلاف جنگ ہو رہی تھی خاص طور پر اس جگہ حملہ کیا جہاں مسلمانوں کا جھنڈا تھا۔حضرت جعفر کے پاس یہ جھنڈا تھا اور یہ جنگ جنگ موتہ تھی۔انہوں نے جب حملہ کیا تو حضرت جعفر" کا ایک ہاتھ کٹ گیا۔انہوں نے جھٹ اس جھنڈے کو دوسرے ہاتھ میں پکڑ لیا۔جب دشمن نے دیکھا کہ جھنڈا پھر بھی نیچے نہیں ہوا تو اس نے دوبارہ حملہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا جس میں انہوں نے جھنڈا تھاما ہوا تھا۔انہوں نے فورا جھنڈے کو دونوں لاتوں سے پکڑ لیا مگر چونکہ لاتوں سے زیادہ دیر تک جھنڈا پکڑا نہیں جا سکتا تھا اس لئے انہوں نے زور سے آواز دی کہ کوئی مسلمان آگے آئے اور اس جھنڈے کو پکڑے اور انہوں نے کہا مسلمانو! دیکھنا اسلام کا جھنڈ ایچا نہ ہو۔اب تھا تو وہ کپڑے کا یا معمولی لکڑی کا جھنڈ امگر اس کا نام انہوں نے اسلام کا جھنڈا ر کھا کہ گو ہے تو وہ لکڑی کا۔ہے تو وہ معمولی سے کپڑے کا مگر بہر حال اسلام کا جھنڈا ہے اس لئے اس کی حفاظت ضروری ہے۔چنانچہ ایک اور افسر نے آگے بڑھ کر اس جھنڈے کو پکڑ لیا۔میرا خیال ہے کہ غالبا وہ حضرت خالد بن ولید تھے جنہوں نے وہ جھنڈا پکڑا۔تو دیکھو ایک کپڑے کی چیز ہے معمولی لکڑی کی چیز ہے اور اسلام کے نزدیک اس کپڑے یا لکڑی کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں۔مگر جس حد تک قومی اعزاز کا سوال ہے اسلام اس سے منع نہیں کرتا۔انہوں نے کہا یہ اسلام کا جھنڈا ہے دیکھنا یہ گرنے نہ پائے اور رسول کریم لی لی نے بھی ان کی اس بات کو نا پسند نہیں کیا بلکہ بعض دفعہ خود رسول کریم ملی لیے ایسی چیزوں کی عظمت قائم کرنے کے لئے فرما دیا کرتے تھے کہ یہ جھنڈا کون شخص لے گا۔چنانچہ بعض لڑائیوں میں آپ نے فرمایا ہے کہ میں جھنڈا اس شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اس کی عزت کو قائم کرے گا اور صحابہ ایک دو سرے سے بڑھ بڑھ کر اس