مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 304
بتاؤں تمہیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں ہوں بندہ مگر میں خُدا چاہتا ہوں میں اپنے سیاہ خانہ دل کی خاطر وفاؤں کے خالق وفا چاہتا ہوں جو پھر سے ہرا کردے خشک پودا ہر مجھے پیر ہرگز نہیں ہے کسی وہی خاک جس سے بنا میرا پتلا چمن کے لئے وہ صبا چاہتا ہوں ނ میں دُنیا میں سب کا بھلا میں اس خاک کو دیکھنا چاہتا ہوں نکالا مجھے جس نے میرے چمن سے میں اس کا بھی دل ہے پیدا چاہتا ہوں سے بھلا چاہتا ہوں کہ لے کر قفس کو اُڑا چاہتا ہوں میرے بال پر میں وہ ہمت کبھی جس کو رشیوں نے منہ سے لگایا وہی جام آب میں پیا چاہتا ہوں رقیبوں کو آرام و راحت کی خواہش مگر میں تو کرب و بلا چاہتا ہوں دکھائے جو ہر دم تیرا حُسن مجھ کو میری جاں ! میں وہ آئینہ چاہتا ہوں