مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 299
299 سکول جانا ہے۔جس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب آتا ہے اس وقت وہ نہ دن دیکھتا ہے نہ رات اور لوگوں کا بھی فرض ہوتا ہے کہ قطع نظر اس سے کہ اس وقت رات ہو یا دن ایک دوسرے کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور در حقیقت خدام الاحمدیہ کا قیام اسی لئے کیا گیا تھا۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب سیلاب آیا تو تمام مقامات کے خدام الاحمدیہ اپنے اپنے گھروں میں سوئے رہے یہاں تک کہ شاہدرہ کی جماعت کے متعلق مجھے یہ شکایت پہنچی کہ وہاں جب سیلاب آیا تو شاہدرہ کے خدام میں سے ایک شخص بھی لوگوں کی مدد کے لئے نہ آیا بلکہ لاہور سے بعض خدام مدد کے لئے پہنچے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ میں لاہور والوں کی تعریف کر رہا ہوں۔انہوں نے بھی قابل تعریف نمونہ نہیں دکھایا۔لاہور ایک بہت بڑا شہر ہے اور شاہد رہ وغیرہ اس کے قریب ہیں۔ایسے موقعہ پر انہیں چاہئے تھا کہ وہ اپنے سب کام کاج چھوڑ کر لوگوں کی خدمت کرتے مگر جہاں تک میری اطلاعات ہیں ، مجھے افسوس ہے کہ یہ کام خدام الاحمدیہ نے نہیں کیا۔پس ایک طرف میں خدام الاحمدیہ کے افسروں کو توجہ دلاتا و قار عمل اور خدمت خلق کی حقیقی روح ہوں کہ کیا وہ قشیر خوش ہیں اور کیا اتنی سی بات پر ہی ان کے دل تسلی پاچکے ہیں کہ وہ چھلکے اور ظاہر کی درستی میں لگے رہتے ہیں اور مہینہ دو مہینہ کے بعد ایک دن لوگوں کو پانی پلا پلا کر اور سانس دلا دلا کر اور ڈاکٹری مدد پہنچا پہنچا کر کچھ کام کرالیتے ہیں اور اگر وہ صرف اسی بات پر خوش ہیں تو میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے کاموں کا دنیا کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔یہ شو تو ہے۔نمائش تو ہے۔پریڈ تو ہے لیکن اگر اصل موقعہ پر کام نہ کیا جائے تو پھر یہ کام پریڈ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔صرف شو اور نمائش کی حیثیت رکھتا ہے۔پس میں خدام الاحمدیہ کے افسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان تمام علاقوں کی مجالس کے پاس جہاں جہاں سیلاب آئے ہیں، اپنے آدمی بھیجوا کر پتہ لگائیں کہ وہاں کی مجالس نے سیلاب کے موقعہ پر لوگوں کی کیا خدمت کی ہے اور آیا وہ خدمت ایسی تھی جو ان کے شان کے شایاں تھی۔پھر اگر ثابت ہو کہ خدام الاحمدیہ کی مجالس نے اپنے فرض کی بجا آوری میں غفلت سے کام لیا ہے تو ان کو سرزنش اور تنبیہ کی جائے۔یہی وہ اصل غرض تھی جس کے لئے وہ اتنے سالوں سے تیاری کر رہے تھے مگر جب وقت آیا اور وہ دن آیا جس کے لئے انہیں تیار کیا جارہا تھا تو انہوں نے اپنے فرائض کو فراموش کر دیا اور اس نہایت ہی قیمتی موقعہ کو ضائع کر دیا۔حضرت مسیح ناصری نے انجیل میں کیا ہی لطیف تمثیل بیان فرمائی ہے کہ کچھ عورتیں تھیں جو دولہا کے انتظار میں کھڑی رہیں۔کھڑی رہیں۔کھڑی رہیں اور کھڑی رہیں۔جب دولہا کے آنے میں بہت دیر ہو گئی تو ان میں سے بعض کے پاس تیل ختم ہو گیا اور انہوں نے دوسری عورتوں سے کہا کہ اس وقت دکانوں میں تیل مل نہیں سکتا۔کچھ تیل ہم کو بھی دے دو تاکہ ہم اپنی مشعلوں کو روشن رکھیں۔تب جن کے پاس تیل تھا انہوں نے کہا ہم تم کو کس طرح تیل دے سکتی ہیں۔ہمارے پاس جو تیل ہے وہ صرف اپنی ضرورت کے لئے ہے۔تم اپنے گھروں کو