مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 298
298 نے لوگوں کی بہت مدد کی ہے مگر مجھے یہ معلوم کر کے نہایت ہی افسوس ہوا کہ ان میں خدام الاحمدیہ کا نام نہیں تھا۔اگر ایسی مصیبت کے وقت بھی خدام الاحمدیہ لوگوں کی مدد کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر ہم نے ان کی پریڈوں کو کیا کرنا ہے۔یہ جو کسی کسی دن وقت مقررہ پر ہاتھ سے کام کرنا ہو تا ہے یہ بچی قربانی نہیں ہوتی۔کچی قربانی وہی ہوتی ہے جب اچانک کوئی مصیبت آجائے اور اسی کچی قربانی کا مفہوم ابتلاؤں کی فلاسفی وقت لوگوں کی امداد کے لئے اپنی جان ومال اور آرام و آسائش کو قربان کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قسم کے ابتلاء آیا کرتے ہیں۔ایک ابتلاء تو ایسا ہوتا ہے جس میں بندے کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے اوپر کوئی سزا لے لے۔جیسے اگر کسی کو کہا جائے کہ وہ اپنے آپ کو کوڑے مارے تو لا زیادہ احتیاط سے کام لے گا۔اول تو زور سے نہیں مارے گا اور پھر کسی ایسی جگہ نہیں مارے گا جو نازک ہو اور جہاں زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہو۔مگر جب دوسرا شخص کو ڑا مارے تو اس وقت وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ زور سے پڑتا ہے یا ہلکا پڑتا ہے اور کہاں لگتا ہے اور کہاں نہیں لگتا۔اسی طرح فرماتے تھے وضو بھی ایک ابتلاء ہے۔سخت سردی میں جب انسان وضو کرتا ہے تو لازماً اسے تکلیف ہوتی ہے مگر اسے اختیار ہوتا ہے کہ اگر چاہے تو پانی گرم کرے اور اس طرح اس تکلیف کی شدت کو اپنے لئے کم کرلے لیکن ایک اور ابتلاء ایسا ہوتا ہے جس میں بندے کا کوئی اختیار نہیں ہو تا۔بیماری آتی ہے اور اس کے کسی بچے کو چمٹ جاتی ہے یا اسے اپنی بیوی سے بڑی محبت ہوتی ہے مگر وہ سخت بیمار ہو جاتی ہے یا بیوی کو خاوند سے بڑی محبت ہوتی ہے اور وہ کسی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یہ ابتلاء ایسا ہے جو اس کے اختیار سے باہر ہے اور اس کی چوٹ ایسی سخت ہوتی ہے کہ مدتوں تک اسے تڑپاتی رہتی ہے۔پھر آپ فرمایا کرتے کہ در حقیقت یہیں ابتلاء انسان کے ایمان کی آزمائش کا ذریعہ ہوتے ہیں اور اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ کون اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان رکھتے اور کون سچا ایمان نہیں رکھتے۔جس وقت اس قسم کے مصائب اور ابتلاء آتے ہیں اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھتا کہ اب دن ہے یا رات یا لوگوں کے آرام کرنے کا وقت ہے یا کام کرنے کا۔مثلاً گزشتہ دنوں سیلاب آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں دیکھا کہ ہر رات کو آیا ہے یا دن کو۔کام کے وقت تو تم کہہ دیتے ہو کہ ایسا وقت مقرر کرو جب سورج اونچا نہ آیا ہو اور خدام آپس میں مشورہ کر کے اعلان کر دیتے ہیں کہ چونکہ سخت گرمی پڑ رہی ہے اس لئے علی الصبح کام شروع کر دیا جائے گا اور آٹھ یا نو بجے بند کر دیا جائے گا۔پھر کچھ لوگ کو زے لے کر ادھر ادھر دوڑتے پھرتے ہیں کہ کسی کو پیاس لگی ہو تو وہ پانی پی لے۔ایک ڈاکٹر پٹیاں اور ضروری سامان لے کر بیٹھا ہو تا ہے کہ اگر کسی کو کوئی چوٹ لگ جائے تو اس کی مرہم پٹی کر دی جائے۔غرض جس قدر سہولت کے سامان تمہیں میسر آسکتے ہیں تم ان سے کام لیتے ہو لیکن جس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے سیلاب آجائے تو اس وقت خدام الاحمدیہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ دریائے راوی کو تھوڑی دیر کے لئے روک دیا جائے۔ابھی ہمارے خدام بیدار نہیں ہوئے یا نو بجے کے بعد سیلاب آنا بند ہو جائے کیونکہ اس کے بعد لڑکوں نے