مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 295

295 ہوئے کہیں گے کہ تو ہمارا خدا نہیں ہو سکتا۔ہم تجھے سجدہ کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ ہم تجھے نہیں پہچانتے۔تب وہ اس شکل میں جو انہیں بتائی گئی تھی ظاہر ہو گا اور تمام بندے سجدے میں گر جائیں گے۔اس میں در حقیقت اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک قسم کی تصویر لوگوں کے سامنے رکھی ہوئی ہے تاکہ وہ اسے دیکھتے رہیں۔دیکھتے رہیں اور دیکھتے رہیں اور اس کے اوصاف کو اچھی طرح یاد کر لیں تاکہ جب خدا تعالیٰ ان کے سامنے آئے اس جہان میں یا اگلے جہان میں وہ اسے فور پہچان لیں۔اب دیکھو دنیا میں کس کس طرح لوگ خدا تعالیٰ سے دوسروں کو پھیرنا چاہتے ہیں۔کوئی کہتا ہے حضرت کرشن خدا تھے۔کوئی حضرت رام چندر کو خدا کہتا ہے اور کوئی حضرت علی کی خدائی کا قائل ہے۔مگر وہ جس نے نماز میں لفظی تصویر خدا تعالیٰ کی دیکھی ہوتی ہے وہ ان کے قریب میں نہیں آسکتا اور اگر آجائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس نے خدا تعالیٰ کی تصویر نہیں دیکھی۔یہی وجہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا کہ جس نے مجھے نہیں پہچانا اس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھی نہیں پہچانا کیونکہ آنے والے مسیح کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ حلیہ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہ ہو گا مگر حلیہ میں مشابہت سے مراد ناک کان اور آنکھ میں مشابہت نہیں بلکہ اس حلیہ سے مراد روحانی حلیہ ہے جو اصل چیز ہے ورنہ ایسے ناک کان اور آنکھ تو ہر ایک کے ہوتے ہیں۔صرف روحانی آنکھیں اور روحانی کان اور روحانی ناک اور روحانی خوبصورتی ہی ہے جس میں دوسرے لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل مشابہ نہیں ہو سکتے تھے۔صرف مسیح موعود کے متعلق ہی لکھا تھا کہ وہ آپ کے کامل مشابہ ہو گا۔پس جس نے قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصویر دیکھ لی تھی۔جس نے حدیث میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر دیکھ لی تھی کس طرح ہو سکتا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کی شکل میں دیکھے اور نہ پہچانے مگر جس نے آپ کو دیکھ کر بھی نہیں پہچانا، اس کے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصویر بھی نہیں دیکھی تھی۔جب وہ دعوی کرتا تھا کہ اس نے قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصویر دیکھی ہوئی ہے۔جب وہ دعویٰ کرتا تھا کہ اس نے حدیث میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر دیکھی ہوئی ہے تو وہ اپنے اس دعوئی میں جھوٹا تھا۔حقیقت یہ تھی کہ اس نے آپ کی تصویر نہ قرآن میں دیکھی تھی نہ حدیث میں ، ورنہ ممکن ہی نہیں تھا کہ مسیح موعود جو اپنے روحانی حلیہ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بالکل مشابہ تھے ، اس کے سامنے آتے اور وہ آپ کے وجود میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصویر کو نہ دیکھ لیتا۔اگر ایک شخص ہمارے سامنے کسے کہ میں نے آم کھایا ہوا مگر جب اس کے سامنے ہم آم لا کر رکھیں تو اس کی طرف وہ توجہ ہی نہ کرے اور جب اس سے پوچھا جائے کہ یہ کیا پھل ہے تو وہ کسے مجھے علم نہیں۔تو ہم سمجھ جائیں گے کہ جب اس نے یہ کہا تھا کہ میں نے آم کھایا ہوا ہے تو اس نے جھوٹ سے کام لیا تھا۔اسی طرح جب غیر اللہ کی شکل میں کوئی شخص آئے اور کہے کہ میں اللہ ہوں اور کوئی دوسرا شخص اس کے دھوکہ میں آجائے تو اس کے معنے یہی ہوں گے کہ اس نے قرآن میں حدیث