مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 294
294 " آج کا خطبہ میں خدام خدام الاحمدیہ کے قیام کا مقصد۔نوجوانوں میں دینی روح کا قیام الاحمدیہ کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ تھی کہ نوجوانوں میں دینی روح پیدا کی جائے اور ان کے قلوب میں دین کے لئے اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے خدمت کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔چونکہ ہر باطن کا ایک ظاہر ہوتا ہے اور ہر مغز کے لئے ایک چھلکا اس کی حفاظت کے لئے ضروری ہوتا ہے اس لئے بعض قوانین ایسے مقرر کئے گئے جن کا منشاء یہ تھا کہ وہ مغز جو اس تحریک کے چلانے کا اصل مقصد ہے ، محفوظ رہے۔مگر ہو سکتا ہے بعض لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس کے چھلکے کو ہی اصل مغز سمجھ لیں اور اس کے ظاہر کو ہی باطن خیال کر کے اس وہم میں مبتلا ہو جائیں کہ جو کام ان کے سپرد کیا گیا تھا اس کو انہوں نے پورا کر لیا ہے اور اس قسم کے دھو کے طبعی طور پر انسان کو لگتے ہی رہتے ہیں۔نماز کو ہی لے لو۔نماز ایک چھلکا ہے۔ایک ظاہر ہے اس باطن اور اس مغز کا جو خدا اپنے بندوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔نماز کیا ہے ؟ اس میں الفاظ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی تصویر کھینچ کر بندے کے سامنے رکھ دی گئی نماز کی فلاسفی ہے اور اس تصویر کو سامنے لا کر خیالی طور پر بندہ اپنے خدا سے باتیں کرتا ہے۔جب وہ کہتا ہے ایاک نعبد وایاک نستعین تو اس وقت خدا تو اس کے سامنے نہیں ہو تا۔وہ ہزاروں پر دوں بلکہ ان گنت پردوں میں چھپا ہوا اس کی نظروں سے پوشیدہ ہوتا ہے مگر چونکہ اس نے لفظی تصویر خداتعالی کی کھینچ لی ہوتی ہے اس لئے اس کے لئے جائز ہو جاتا ہے کہ وہ نماز میں ایاک نعبد و ایاک نستعین کیے۔یہ تصویر اس کے سامنے اس لئے رکھی جاتی ہے تاکہ جب اسے خدا تعالیٰ کی زیارت نصیب ہو وہ اسے پہچان جائے۔گویا نماز کیا ہے؟ ایک تصویر ہے۔ویسی ہی جیسے کسی کا چھوٹا بچہ ہو اور وہ اسے بچپن میں ہی چھوڑ کر کہیں چلا جائے تو ماں اسے ہمیشہ اس کے باپ کی تصویر دکھاتی رہے کہ یہ تیرا ابا ہے۔یہ تیرا ابا ہے تاکہ جب اس کا باپ گھر آئے تو اس سے مونہ نہ موڑلے اور یہ نہ کہے کہ میں نہیں جانتا یہ کون ہے۔چونکہ اس نے بار بار اپنے باپ کی تصویر دیکھی ہوگی اس لئے جب وہ باپ کو اصل صورت میں دیکھے گا تو فورا اسے پہچان لے گا اور سمجھ جائے گا کہ یہ میرا باپ ہے۔اسی طرح نماز میں خدا تعالیٰ کی ہستی کی لفظوں میں تصویر کھینچی جاتی ہے کہ وہ رب ہے۔وہ رحمن ہے۔وہ رحیم ہے۔وہ مالک یوم الدین ہے۔وہ انسان کو صراط مستقیم پر چلانے والا ہے۔وہ ضلالت اور غضب کے راستوں سے بچانے اور محفوظ رکھنے والا ہے۔وہ اعلیٰ ہے۔وہ عظیم ہے۔وہ سبحان ہے۔وہ اکبر ہے۔وہ تمام حمدوں کا مالک ہے۔ہر قسم کی تعریفیں اسی کے لئے ہیں۔ہر قسم کی قربانیاں اسی کے لئے ہیں اور ہر قسم کی عبادتوں کا وہی مستحق ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی ایک تصویر ہے۔مثبت تصویر نہ کہ منفی۔جب کسی ہستی میں انسان کو یہ صفات نظر آجائیں گی وہ فورا سمجھ جائے گا کہ یہ خدا ہے۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ ایک غیر شکل میں بندوں کے سامنے ظاہر ہو گا اور انہیں کہے گا میں تمہارا خدا ہوں تم مجھے سجدہ کرو۔بندے استغفار کرتے