مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 286

286 میں بیماری اور کمزوری کی وجہ سے آج زیادہ بول نہیں قرآن کریم میں ایمان لانے والوں کے دو نام سکتا۔صرف اختصار اجماعت کے دوستوں کو عام طور پر اور نوجوانوں کو خصوصیت کے ساتھ اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے دو نام رکھے گئے ہیں۔ایک مومن اور ایک مسلم۔مسلم نام قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے اس امت کا ر کھا گیا ہے اور مومن بھی ایک تاریخی نام ہے جو ہر اس جماعت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی لائی ہوئی صداقتوں پر ایمان لاتی ہو۔اگر ہمارے نوجوان صرف ان ناموں کو ہی اپنے سامنے رکھیں تو ان کی زندگیوں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔مسلم کے معنے ہیں فرمانبردار اور مسلم کے معنے ہیں تکالیف سے نجات دینے والا۔یعنی جنگ مسلم کی تعریف و فساد کو دور کرنے والا۔جو شخص دنیا میں سلامتی پیدا کرتا ہے اور سلامتی کی باتوں پر عمل کرتا ہے اور سلامتی کا ہی لوگوں کو وعظ کرتا ہے وہ مسلم ہے۔اسی طرح جو شخص فرمانبرداری اور اطاعت کی روح اپنے اندر پیدا کرتا ہے وہ مسلم ہے۔پہلا تعلق انسان کا اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہوتا ہے۔پس وہ شخص جو اللہ تعالی کا فرمانبردار بن جاتا ہے ، وہ مسلم ہو تا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے احکام کے آگے اپنے آپ کو کلیتہ ڈال دیتا ہے اور یہی اسلام کی توضیح اور اس کی صحیح تشریح ہے۔دوسرا تعلق انسان کا اپنی ذات سے ہوتا ہے۔پس جو شخص اپنی ذات کو فتنوں میں پڑنے سے بچالیتا ہے۔شرارتوں میں پڑنے سے بچالیتا ہے۔بددیانتیوں خیانتوں اور فلموں میں پڑنے سے بچالیتا ہے۔جھوٹ ، فریب ، دعا کپٹ ، بغض اور کینہ سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے وہ بھی مسلم ہے کیونکہ اس نے اپنی جان کو سلامتی عطا کی اور وہ مسلم ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالے کی فرمانبرداری اور اطاعت میں یہ کام کیا۔پھر جو شخص اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتا ہے وہ مسلم ہے۔جو شخص ان کی باتوں پر عمل کرتا ہے وہ مسلم ہے۔جو شخص اپنی قوم کے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ مسلم ہے۔جو شخص اپنے ہمسایوں اور رشتہ داروں کو امن دیتا اور فساد اور خونریزی ان کے لئے پیدا نہیں کرتاوہ مسلم ہے۔مگر و شخص اس کے خلاف عمل کرتا ہے وہ غیر مسلم ہے۔چاہے وہ دن رات اپنے آپ کو مسلم کہتا رہے کیونکہ نام کے ساتھ کوئی چیز بدل نہیں جاتی۔ہم دیکھتے ہیں بچے بعض دفعہ ایسی حالت میں جب کہ ان کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں ہوتی کھیلتے ہوئے دو سرے بچے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں لو میں تمہیں آم دیتا ہوں۔تم کھالو۔یا پیسہ دیتا ہوں تم لے لو حالا نکہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا۔اب بچوں کا ایسا فعل ایک مذاق کے طور پر تو کام آسکتا ہے ، یہ فائدہ تو ہو سکتا ہے کہ ماں باپ یا بھائی وغیرہ ہنس پڑیں یا جس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ایسا کہا جاتا ہے وہ ہنس پڑے اور سمجھے کہ مجھ سے مذاق کیا گیا ہے لیکن اس سے کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہو سکتا۔خیالی طور پر تم کسی کو دنیا کی بادشاہت بھی بخش دو تو اس کے حالات میں کوئی تغیر نہیں آئے گا لیکن حقیقی طور پر تم کسی کو ایک پیسہ بھی دے