مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 270

270 ناواقفیت ہے اور اس کی وجہ کسی بات کا بار بار سامنے آتے رہنا ہے۔لوگ اس چیز کے بار بار سامنے آنے کی وجہ سے دلائل پر غور نہیں کرتے اور اس کی حقیقت معلوم کرنے سے غافل رہتے ہیں۔پس تم مت خیال کرو کہ جب تم کہتے ہو کہ سچ بولنا چاہئے تو تمہارا بچہ بھی جانتا ہے کہ سچ کیوں بولنا چاہئے۔وہ اس بات کو ہرگز نہیں جانتا کہ سچ کیوں بولنا چاہئے۔بلکہ تم مجھے یہ کہنے میں معاف کرو کہ تم جو کہتے ہو کہ ہمارا بچہ جانتا ہے کہ اسے سچ کیوں بولنا چاہئے تم خود بھی نہیں جانتے کہ سچ کیوں بولنا چاہئے۔اسی طرح تم میں سے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کو یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ محنت کریں۔یہ بات تو سب جانتے ہیں۔وہ مجھے یہ کہنے میں معاف کریں کہ ان کے بچے تو کیا وہ خود بھی نہیں جانتے کہ محنت کس قدر ضروری چیز ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان چیزوں کے متعلق اساتذہ بچوں کے دلوں میں تلاش اور جستجو کا مادہ ابھاریں بہت زیادہ زور دینے اور بار بار توجہ دلانے اور زیادہ سے زیادہ ان کی اہمیت لوگوں کے ذہن نشین کرانے کی ضرورت ہے۔ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کے کانوں میں بار بار یہ باتیں ڈالیں۔اسی طرح اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ طالب علموں کے دماغوں میں ان چیزوں کو راسخ کر دیں اور ان باتوں کی کرید تلاش اور جستجو کا مادہ ان میں پیدا کریں۔کیونکہ لوگ سچائی کو نہیں جانتے کہ وہ کیا چیز ہوتی ہے۔وہ صرف سچ کا لفظ جاننا کافی سمجھ لیتے ہیں۔اسی طرح وہ نہیں جانتے کہ محنت کتنی ضروری چیز ہے۔بلکہ وہ صرف محنت کے لفظ کو رٹ لینا اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔اسی طرح لوگ جھوٹ سے بچنے کے الفاظ تو سنتے ہیں مگر جانتے نہیں کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے۔اسی طرح انہوں نے بنی نوع انسان کی محبت اور خیر خواہی کے الفاظ سنے ہوئے ہوتے ہیں۔مگر جانتے نہیں کہ محبت اور خیر خواہی کیا ہوتی ہے۔اسی طرح انہوں نے غیبت کا لفظ سنا ہوا ہوتا ہے مگر جانتے نہیں کہ غیبت کیا ہوتی ہے۔یہ نہیں کہ ہماری شریعت میں ان چیزوں کا حل موجود نہیں۔حل موجود ہے۔قرآن کریم نے ان امور کی وضاحت کر دی ہے۔احادیث میں رسول کریم ملی یا اللہ نے تمام باتوں کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔مگر لوگ کہتے ہیں کہ ان باتوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ملی و ایلیا رام نے فرمایا کہ غیبت نہیں کرنی چاہئے۔اس پر ایک شخص نے کہا۔یا رسول اللہ ! اگر میں اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کروں۔جو اس میں فی الواقعہ موجود ہو تو آیا یہ بھی غیبت ہے۔رسول کریم ملی ﷺ نے فرمایا غیبت اس کا تو نام ہے کہ تم اپنے بھائی کا اس کی عدم موجودگی میں کوئی ایسا عیب بیان کرو جو فی الواقعہ اس میں پایا جاتا ہے اور اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ پائی جاتی ہو تو یہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہو گا۔اب دیکھو رسول کریم میں لالا لیلی نے اس مسئلہ کو حل کر دیا اور بتادیا کہ غیبت اس بات کا نام نہیں کہ تم کسی کا وہ عیب بیان کرو جو اس میں پایا ہی نہ جاتا ہو۔اگر تم ایسا کرو گے تو تم مفتری ہو۔تم جھوٹے ہو۔تم کذاب ہو۔مگر تم غیبت کرنے والے نہیں۔