مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 269
269 بات ہے۔میرے پاس کئی لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احمدیت کی صداقت کا کیا ثبوت ہے۔میں نے حضرت خلیفہ اول کو دیکھا کہ آپ سے جب بھی کوئی شخص یہ سوال کرتا۔آپ ہمیشہ اسے یہ جواب دیا کرتے کہ تم نے دنیا میں کسی سچائی کو قبول کیا ہوا ہے یا نہیں۔اگر کیا ہوا ہے تو جس دلیل کی بناء پر تم نے اس سچائی کو قبول کیا ہے وہی دلیل احمدیت کی صداقت کا ثبوت ہے۔اس کے جواب میں پوچھنے والا بسا اوقات یا تو ہنس کر خاموش ہو جاتا یا جو دلیل پیش کرتا اسی سے آپ اس کے سامنے احمدیت کی صداقت پیش فرما دیتے۔میرا بھی یہی طریق ہے اور میں نے اپنے تجربہ میں اسے بہت مفید پایا ہے چنانچہ مجھ سے بھی جب کوئی شخص یہ سوال کرتا ہے کہ احمدیت کی صداقت کا کیا ثبوت ہے تو میں اسے یہی کہا کرتا ہوں کہ تم پہلے یہ بتاؤ کہ تم م م ل ا ل و لیموں کو کیوں مانتے ہو اور کن دلائل سے آپ کی صداقت کے قائل ہو۔جو دلائل رسول کریم ملی دیوی کی صداقت کے تمہارے پاس ہیں۔وہی دلائل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے میں پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔اس کے جواب میں کئی لوگ تو خاموش ہی ہو جاتے ہیں اور کئی یہ کہہ دیتے ہیں کہ رسول کریم ملی لی کی صداقت کے دلائل ہم کیا بتا ئیں ؟ وہ تو ظاہرہی ہیں۔پھر جب ان کے اس جواب پر جرح کی جاتی ہے تو صاف کھل جاتا ہے کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ رسول کریم ملی کو کیوں سچا سمجھتے ہیں۔میرے پاں آج تک اس قسم کے جتنے لوگ آئے ہیں ان میں سے نوے فیصدی کا میں نے یہی حال دیکھا ہے۔سو میں سے دو چار ایسے بھی ہوئے ہیں جنہوں نے کوئی جواب دیا ہے۔مگر ان کا وہ جواب بھی بہت ہی ادھورا تھا۔مثلا یہی کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ رسول کریم میں کیو ایم کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔اس لئے ہم آپ کو سچا سمجھتے ہیں اور اس طرح وہ خود ہی قابو میں آجاتے ہیں۔کیونکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی بہت سی پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں۔تو جو سچائی ہر وقت انسان کے سامنے رہتی ہے اسے وہ کرید نے کا عادی نہیں ہو تا اور نہ اس کے دلائل اسے معلوم ہوتے ہیں۔اس لئے یہ کہنا کہ سچائی وغیرہ کے بارہ میں کسی کو سمجھانے کی کیا ضرورت ہے یہ عام باتیں ہیں جو تمام لوگ جانتے ہی ہیں ، بہت بڑی غفلت ہے۔کیونکہ جو چیزیں زیادہ سامنے آتی ہیں وہی اس بات کا حق رکھتی ہیں کہ ان کے متعلق بار بار سمجھایا جائے اور بار بار ان کے ولا ئل بیان کئے جائیں۔کیونکہ لوگ بار بار سامنے آنے والی چیزوں کے متعلق سوال نہیں کیا کرتے۔بلکہ وہ غیر معروف چیزوں کے متعلق زیادہ سوال کیا کرتے ہیں۔قادیان میں قرآن کریم کا درس تو اکثر ہوتا ہی رہتا ہے۔تم غور کر کے دیکھ لو کہ وہ لوگ جو رسول کریم صلی اللہ کے متعلق سوالات کرنے والے ہیں وہ بہت ہی تھوڑے ہوتے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق اس سے زیادہ سوال کرتے ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کا ذکر آجائے تو اور زیادہ سوالات کرتے ہیں۔لیکن جب آدم علیہ السلام کا قصہ آجائے تو بے تحاشا سوالات کرنے لگ جاتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا دل میں بے اختیار گدگدیاں ہونی شروع ہو گئی ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ آدم کا واقعہ بہت دور کا ہے اور محمد میم کے معجزات کا بار بار ذکر سن کر اعتراض کا خیال دل میں پیدا نہیں ہو تا۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان باتوں کے دلائل موجود نہیں۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو دلائل سے