مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 259
259 لطیف جسم ملتا ہے۔خواب میں جسم تو ایسا لطیف ہوتا ہے کہ انسان تو یہ دیکھ رہا ہو تا ہے کہ وہ ہزاروں کا مقابلہ کر رہا ہے یا دریا میں تیر رہا ہے یا پہاڑوں سے گزر رہا ہے یا بڑے بڑے ہاتھیوں اور گھوڑوں کو وہ ایک چپت رسید کرتا ہے اور وہ تمام اس کے مطیع اور فرمانبردار ہو جاتے ہیں۔مگر اس کے پاس لیٹی ہوئی بیوی اور اس کے بچے ان نظاروں میں سے کوئی نظارہ بھی نہیں دیکھ رہے ہوتے۔یہ تو دیکھ رہا ہوتا ہے کہ میں ہزاروں انسانوں کے ساتھ لڑ رہا ہوں اور وہ یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس کی ناک پر مکھی بھن بھن کر رہی ہے اور یہ اسے اڑا بھی نہیں سکتا۔وہ تو دیکھتا ہے کہ میں سفر کر کے ہزاروں میل دور نکل گیا ہوں اور یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس نے ایک کروٹ تک نہیں بدلی۔پس وہ جسم جو انسان کو خواب میں ملتا ہے ، ایک روحانی جسم ہوتا ہے جسے وہ خود تو دیکھ رہا ہوتا ہے مگر اس کے بیوی بچوں کو نظر نہیں آتا کیونکہ انسان کی مادی آنکھیں صرف کثیف جسم دیکھنے کی طاقت رکھتی ہیں۔اسی وجہ سے جن باتوں کو ایک خواب دیکھنے والا شخص اپنی روحانی آنکھوں حیات بعد الممات کی وضاحت سے دیکھتا یا اپنے روحانی کانوں سے سنتا ہے انہیں جسمانی آنکھیں نہیں دیکھتیں اور نہ جسمانی کان ان باتوں کو سن سکتے ہیں۔پس وہ ایک جسم تو ہو تا ہے مگر اس جسم سے بہت اعلیٰ اور وہ ان آنکھوں سے نظر نہیں آسکتا۔پھر صرف خواب پر ہی منحصر نہیں۔اس دنیا میں بھی اس قسم کی کئی چیزیں پائی جاتی ہیں۔مثلاً میں نے اس وقت عینک لگائی ہوئی ہے اگر عینک کے شیشہ میں سے میں ایک سلائی گزاروں تو وہ نہیں گزرے گی۔مگر میری آنکھ کی بینائی اس میں سے گزر رہی ہے اور مجھے پتہ بھی نہیں چلتا کہ میری آنکھوں اور لوگوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہے۔پس باوجود اس کے کہ میری آنکھوں اور لوگوں کے درمیان ایک روک حائل ہے اور ۱۰/ ۱ یا ۱/۱۲ اینچ کا شیشہ آنکھ کے سامنے ہے میں سب کو دیکھ رہا ہوں حالانکہ بظاہر یہ چاہئے تھا کہ مجھے اس روک کی وجہ سے کچھ نظر نہ آتا۔مگر حالت یہ ہے کہ مجھے اس شیشہ کی وجہ سے بجائے کچھ نظر نہ آنے کے زیادہ نظر آ رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شیشے کا جسم کثیف نہیں بلکہ وہ ایک شفاف جسم ہے اور میری بینائی کے رستہ میں روک نہیں بلکہ بوجہ اس کے کہ اس کی ساخت اور اس کا شیشہ میری آنکھ کے مطابق ہے وہ میری بینائی کو تیز کر رہا ہے۔تو دنیا میں خدا تعالیٰ نے ایسی مادی چیزیں بھی رکھی ہوئی ہیں کہ جن میں سے دوسری چیز نظر آجاتی ہے اور وہ روک نہیں بنتیں۔مثلاً اگر تم لیمپ جلاؤ اور اس پر چمنی نہ ہو تو اس میں سے تمہیں اندھیرا سادکھائی دے گا اور اس سے دھواں اٹھتا ر ہے گا۔لیکن جو نہی تم اس پر چمنی رکھو اس کی روشنی بیسیوں گنا بڑھ جائے گی۔حالانکہ چمنی بظا ہر ماس کی روشنی میں روک بنتی ہے۔مگر چونکہ اس کو جو جسم ملتا ہے وہ نہایت شفاف قسم کا ہوتا ہے۔اس لئے بوجہ شفاف ہونے کے وہ اس روشنی کو روکتا نہیں بلکہ اسے زیادہ اچھا بنا دیتا ہے۔اسی طرح خواب میں انسان کو جو روحانی جسم ملتا ہے وہ بھی ایک شفاف چیز ہوتی ہے اور اس وجہ سے گووہ جسم کا ہی کام دیتی ہے مگر اس دنیا کے لوگ اسے دیکھ نہیں سکتے۔وہ صرف ظاہری جسم کو دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ان کی بینائی ایسی تیز نہیں ہوتی کہ وہ ان مادی آنکھوں سے روحانی جسم کو بھی دیکھ سکیں۔یہی حال اگلے جہان میں ہو گا اور وہاں ہر انسان کو لطیف قسم کا