مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 256

256 میرے بھائی اگر تو مجھے مارنے پر ہی خوش ہے تو بے شک مجھے مار لے مگر خدا کی باتیں تھوڑی دیر کے لئے سن لے۔تو تمہارے اس نمونہ سے سارا گاؤں متاثر ہو گا اور اگر کبھی تمہیں نظلم کا مقابلہ کرنا پڑے اور تمہارے ہاتھوں سے دوسرے کو نادانستہ طور پر کوئی نقصان پہنچ جائے اور معاملہ عدالت میں جائے تو تم عدالت میں جا کر بھی صاف طور پر کہو کہ اے حاکم میں نے ان حالات میں یہ فعل کیا ہے اور جھوٹ بول کر اپنے آپ کو بچانے کی کبھی کوشش نہ کرو۔اگر تم ایسا کرو تو تمہاری کامیابی اور ترقی یقینی ہے۔لیکن اگر گالی کے مقابلہ میں تم بھی گالی دو گے۔مار کے مقابلہ میں تم بھی مارو گے تو تمہارے اس فعل کی وجہ سے احمدیت کو کوئی ترقی نہیں ہو گی۔پس تم ان دونوں طریقوں کو اختیار کرو۔ماریں کھاؤ اور کھاتے چلے جاؤ۔پٹو اور پٹتے ہی چلے جاؤ سوائے اس کے کہ خدا اور رسول کا حکم کے کہ اب تمھاری جان کا سوال نہیں ، اب تمہارے آرام کا سوال نہیں۔اب دین کی حفاظت کا سوال ہے۔ایسی صورت میں میری نصیحت تمہیں یہی ہے کہ تم مقابلہ کرو اور اس نیکی کے حصول سے ڈرو نہیں۔اگر مظلوم ہوتے ہوئے اور دفاع کرتے ہوئے تمہارے ہاتھوں سے نادانستہ طور پر کسی کو کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے اور در حقیقت تم ظالم نہیں ہو تو تمہارے لئے جنت کے دروازے اور زیادہ کھل جاتے ہیں۔پس بہادر بنو۔اسی طرح کہ جب لوگ تم پر ظلم کریں تو تم عفو اور چشم پوشی اور در گذر سے کام لو۔مگر جب دیکھو کہ چشم پوشی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور تمہیں دفاع اور خود حفاظتی کے لئے مقابلہ کرنا پڑتا ہے تو پھر دلیری سے اس کا مقابلہ کرو اور اگر اس دوران میں تمہارے ہاتھوں سے کسی کو کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو پھر صاف کہہ دو کہ میں نے ایسا کیا ہے اور جھوٹ بول کر اپنے فعل پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہ کرو۔تقریر ۶ فروری ۱۹۴۱ء بر موقعه سالانہ اجتماع مطبوعه الفضل ۲ اکتوبر ۴ اکتوبر ۶ اکتوبر ۱۹۷۰ء)