مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 249
249 کردوں گا۔چنانچہ اس نے کہا تاؤ کیا چاہتے ہو۔کشمیری کہنے لگے حضور ہم نے سنا ہے پٹھان ذرا سخت ہوتے ہیں۔ہمارے ساتھ پہرہ ہونا چاہیئے۔گویا وہ جان دینے کو تیار ہیں۔لڑائی پر جانے کے لئے آمادہ ہیں۔مگر کہتے ہیں پٹھان ذرا سخت ہوتے ہیں ساتھ پہرہ ہونا چاہئے۔وہ لوگ جو احمدیت میں داخل ہیں مگر پھر خیال کرتے ہیں کہ فلاں نے چونکہ ہمیں مارا پیٹا ہے۔اس لئے دو ڑو اور قادیان چل کر شکایت کرو۔وہ بھی درحقیقت ایسے ہی ہیں۔وہ بھی کہتے ہیں ہمارے ساتھ کسی ناظر کا پہرہ ہونا چاہئے۔ایسا شخص سپاہی کہلانے کا مستحق نہیں ہو سکتا۔سپاہی وہی کہلا سکتا ہے جو بہادر ہو اور ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔در حقیقت احمدیت قبول کرنا اوکھلی میں سر دینے والی بات ہے۔کسی نے کہا ہے اوکھلی میں سر دینا تو موہلوں کا کیاؤ ر۔یعنی اوکھلی میں سر دے دیا تو اس ڈنڈے کا جس سے چاول کوئے جاتے ہیں کیا ڈر ہو سکتا ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص احمدیت میں داخل ہو تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت مجھ پر مصائب بھی آئے تو میں ان تمام مصائب کو برداشت کروں گا اور کسی موقع پر بھی قدم پیچھے نہیں ہٹاؤں گا۔پس یاد رکھو وہ کامیابیاں اور ترقیاں جو آنے والی قربانیوں کی ضرورت اور ان کے ثمرات ہیں ان کے لئے مصائب کی بھٹی میں سے گذرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔اس کے بعد کامیابیاں بھی آئیں گی۔خواہ وہ تمہاری زندگی میں آئیں یا تمہاری موت کے بعد۔شریف آدمی یہ نہیں دیکھا کر نا کہ قربانی کا پھل اسے کھانے کو ملتا ہے یا نہیں بلکہ وہ قربانی کرتا چلا جاتا ہے اور بسا اوقات ایسا ہو تا ہے کہ قربانی کا پھل چکھنے کا اسے موقع بھی نہیں ملتا کہ وہ وفات پا کر اپنے رب کے حضور پہنچ جاتا ہے۔تم اگر غور کرو تو تم میں سے اچھے کھاتے پیتے وہی نکلیں گے جن کے باپ دادا نے خود نہیں کھایا اور کنگال وہی نکلیں گے جن کے باپ دادا نے جو کچھ کمایا تھا وہ کھا لیا۔آخر یہ بڑے بڑے زمیندار جو آج تمہیں نظر آ رہے ہیں کیسے بن گئے ؟ یہ بڑے زمیندارای طرح بنے کہ ان کے باپ دادوں نے تنگی سے گزارہ کیا اور ایک ایک پیسہ بچا کر ایک کنال یہاں سے اور ایک کنال وہاں سے خریدی۔پھر رفتہ رفتہ ایک گھماؤں زمین ہو گئی اور پھر ایک سے دو اور دو سے چار اور چار سے دس اور دس سے پندرہ اور پندرہ سے ہیں گھماؤں زمین کے وہ مالک بن گئے اور جب وہ مرے تو ان کی اولاد نے ان کی زمینوں سے فائدہ اٹھایا۔مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اولاد ناخلف ہوتی ہے وہ باپ دادا کی جائیداد کو اڑا دیتی اور آہستہ آہستہ مقروض ہو جاتی ہے اور وہی زمین جو ان کے باپ دادا نے بڑی مشکلات سے اکٹھی کی ہوتی ہے بنیوں کے قبضہ میں چلی جاتی ہے۔اور جب آگے ان کی اولاد آتی ہے تو وہ بھوکوں مرنے لگتی ہے اور وہ ان بنیوں کو گالیاں دیتی ہے جو ان کی زمینوں پر قبضہ کئے ہوئے ہوتے ہیں۔حالانکہ انہیں گالیاں اپنے ماں باپ کو دینی چاہئیں جو اپنی اولاد کا حصہ کھا گئے۔تو باپ دادوں کی محنت ہمیشہ اولاد کے کام آتی ہے اور اگر کوئی شخص محنت نہیں کرتا تو اس کی اولاد بھی ات