مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 245

245 علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھ سے پوچھا۔محمود افتح محمد اس دفعہ نہیں آیا۔گویا ان کا آنا جانا انتنا با قاعدہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کے ایک اتوار کے دن نہ آنے پر تعجب ہوا اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ وہ کیوں نہیں آئے۔وہ بھی کالج کے طالب علم تھے۔کالج میں پڑھتے تھے اور ان کے لئے بھی کئی قسم کے کام تھے۔پھر وہ فیل بھی نہیں ہوتے تھے کہ کوئی شخص کہہ دے وہ پڑھتے نہیں ہوں گے۔پھر وہ کوئی ایسے مالدار بھی نہیں تھے کہ ان کے متعلق یہ خیال کیا جا سکے کہ انہیں اڑانے کے لئے کافی روپیہ ملتا ہو گا۔میں سمجھتا ہوں لاہور کے کالجوں کے جو سٹوڈنٹس یہاں آئے ہوئے ہیں یا نہیں آئے۔ان میں سے نوے فیصدی وہ ہوتے ہیں جن کو اس سے زیادہ گزارہ ملتا ہے جتنا چوہدری فتح محمد صاحب کو ملا کر تا تھا۔مگر وہ با قاعدہ ہر اتوار کو قادیان آیا کرتے تھے۔اسی طرح اور بھی کئی طالب علم تھے جو قادیان آیا کرتے تھے۔گو اتنی باقاعدگی سے نہیں آتے تھے۔مگر بہر حال کثرت سے آتے تھے۔اس وقت لاہور میں احمدی طالب علم دس بارہ تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک دو کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی دس میں سے دو تین تو ایسے تھے کہ وہ ہفتہ وار یا قریباً ہفتہ وار قادیان آیا کرتے تھے اور نصف تعداد ایسے طالب علموں کی تھی جو مہینے میں ایک دفعہ یا دو دفعہ قادیان آتے تھے اور باقی سال میں چار پانچ دفعہ قادیان آ جاتے تھے اور بعض دفعہ کوئی ایسا بھی نکل آتا جو صرف جلسہ سالانہ پر آجاتا تھا۔مگر اب صرف ہیں پچیس فیصدی طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو قادیان میں سال بھر میں ایک دفعہ آتے ہیں یا ایک دفعہ بھی نہیں آتے۔آخر یہ فرق اور امتیاز کیوں ہے؟ میں نے کہا ہے اگر تمہاری مالی حالت ان لڑکوں سے کمزور ہوتی جو اس وقت کالج میں پڑھتے تھے تو میں سمجھتا کہ یہ مالی حالت کا نتیجہ ہے اور اگر یہ بات ہوتی کہ اب تمہیں دین کے سیکھنے کی ضرورت نہیں رہی، تمہارے لئے اس قدر اعلیٰ درجہ کے روحانی سامان لاہور اور امرت سر اور دوسرے شہروں میں موجود ہیں کہ تمہیں قادیان آنے کی ضرورت نہیں تو پھر بھی میں سمجھتا کہ یہ بات کسی حد تک معقول ہے۔لیکن اگر نہ تو یہ بات ہے کہ تمہاری مالی حالت ان سے خراب ہے اور نہ یہ بات درست ہے کہ باہر ایسے سامان موجود ہیں جن کی موجودگی میں تمہیں قادیان آنے کی ضرورت نہیں اور پھر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ اب قادیان کا سفر بالکل آسان ہے یہ بات میری سمجھ سے بالکل بالا ہے کہ کیوں ہماری جماعت کے نوجوانوں میں اس قسم کے غفلت پائی جاتی ہے۔پہلے شام کی گاڑی سے ہمارے طالب علم بٹالہ میں اترتے اور گاڑی سے اتر کر راتوں رات پیدل چل کر قادیان پہنچ جاتے۔یا آٹھ نو بجے صبح اترتے تو بارہ ایک بجے دوپہر کو قادیان پہنچ جاتے تھے۔طالب علم ہونے کی وجہ سے بالعموم ان کے پاس اتنے کرائے نہیں ہوتے تھے کہ وہ یکہ یا ٹانگہ لے سکیں۔ایسے بھی ہوتے تھے جو سیکوں میں آجایا کرتے تھے مگر ایسے طالب علم بھی تھے جو پیدل آتے اور پیدل جاتے تھے۔مگر اب ریل کی وجہ سے بہت کچھ سہولت ہو گئی ہے۔ریل وقت بچالیتی ہے۔ریل کوفت سے بچالیتی ہے اور ریل کا جو کرایہ آج کل بٹالہ سے قادیان کا ہے وہ اس کرایہ کے نصف کے قریب ہے جو ان دنوں یکہ والے وصول کیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں ڈیڑھ دو روپیہ میں یکہ آیا کرتا تھا۔اور ایک یکہ میں تین سواریاں ہوا کرتی تھیں۔گویا کم سے کم آٹھ آنے ایک آدمی کا صرف ایک طرف کا