مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 231

231 مسائل میں ایسا پختہ کریں کہ انہیں کوئی گمراہ نہ کر سکے۔اگر ہم افراد کی اس رنگ میں تربیت نہیں کریں گے اور پھر یہ امید رکھیں گے کہ کسی مخالف کی باتوں سے وہ متاثر بھی نہ ہوں۔تو یہ ایسی ہی بات ہو گی جیسے کہتے ہیں کہ " آپے میں رجی بچی آپے میرے بچے جیون " یعنی خود بخود گھر میں بیٹھے فرض کر لیا کہ ہمارا ہر فرد دینی مسائل سے آگاہ ہے اور پھر خود بخود یہ نتیجہ نکال لیا کہ اب نہیں کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔حالانکہ جب تک انہیں دوسرے کے لٹریچر کا علم نہیں ہو گا اور انہیں معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے اعتراضات کے کیا جوابات ہیں۔اس وقت تک بالکل ممکن ہے کہ وہ اس کا شکار ہو جائیں اور اس کی فتنہ انگیز باتوں سے متاثر ہو جائیں۔پس ہماری جماعت کے افراد کو شکاری ہماری جماعت کے افراد کو شکاری پرندے بننا چاہئے پرندے بننا چاہئے۔انہیں وہ باز بننا چاہئے جو روحانی لحاظ سے اپنے شکار پر حملہ آور ہوتا اور اسے اپنے قبضہ و تصرف میں لے آتا ہے اسے چوہوں کی طرح اپنی بلوں میں سر چھپانے والی قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔بلکہ کامیاب وہی قوم ہوا کرتی ہے جو بازوں اور شکروں کی طرح ہوتی ہے۔مجھے حضرت خلیفہ اول کے عہد میں جب کبھی باہر تقریر کے لئے جانا پڑتا تو مجھے یہ بات بیان کرتے ہمیشہ مزا آ جاتا کہ لوگ یہ شور مچاتے ہیں کہ انہوں نے مرزا صاحب کو شکست دے دی۔حالانکہ جب آپ نے دعویٰ کیا اس وقت آپ اکیلے تھے۔مگر جس طرح شیر بھیڑوں کے گلے پر حملہ کرتا اور ان میں سے کئی بھیڑیں اٹھا کر لے جاتا ہے۔اسی طرح حضرت مرزا صاحب نے ہزاروں نہیں لاکھوں کو اپنے ساتھ ملالیا۔اب فرض کرو بھیڑیں ایک کروڑ ہوں اور شیر صرف ایک ہو لیکن وہ ان کروڑ بھیڑوں میں سے سو کو اٹھا کر لے جائے تو بہر حال فاتح شیر ہی کہلائے گا نہ کہ بھیڑیں۔اسی طرح بے شک مخالف زیادہ ہیں اور احمدی کم مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا جس کثرت کے ساتھ غیر احمدیوں میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آدمی کھینچے اس کا سینکڑواں حصہ بھی کوئی مخالف ہم میں سے لوگوں کو لے گیا۔اگر نہیں تو کامیاب وہ کس طرح ہو گئے۔کامیاب تو وہی ہوا جو اکیلا اٹھا اور لاکھوں کو اس نے اپنے ساتھ ملالیا۔پھر اگر کوئی برگشتہ بھی ہوا تو خدا نے اس کی جگہ ہمیں کئی مخلصین دے دیئے۔قرآن کریم خود بچے سلسلہ کی صداقت کا معیار یہ بیان فرماتا ہے۔کہ اگر اس میں سے ایک شخص بھی مرتد ہوتا ہے تو اس کی جگہ ہم ایک قوم کو لے آتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہمیشہ ہمارے ساتھ رہا ہے۔پس یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے کیونکہ ہم تھوڑے ہو کر جیتے چلے جاتے ہیں اور وہ زیادہ ہو کر ہارتے چلے جاتے ہیں۔آخری زمانہ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام امرت سر تشریف لے گئے تو بڑی سخت مخالفت ہوئی اور لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے۔ان دنوں امرتسر میں ہماری جماعت کے ایک دوست تھے جو کچھ پڑھے لکھے تو نہیں تھے۔مگر یوں سمجھدار آدمی تھے۔پرانے زمانہ میں ایک دستور تھا جسے شاید آج کل کے احمدی نہ جانتے ہوں اور وہ یہ کہ جب لڑکے والے لڑکی لینے جاتے تھے تو ، مستورات لڑکی والوں کے گھر میں اکٹھی ہوتی تھیں۔وہ لڑکے والوں کو خوب گالیاں دیا کرتی تھیں ان گالیوں کو پنجابی میں سٹھنیاں کہا کرتے تھے۔وہ خیال کرتی