مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 229
229 سے یہ کہہ سکو کہ تم نے سچ کو تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔میں اس بارہ میں جماعت کے اندر بیداری پیدا کرنے کے لئے انصار اللہ اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ خدام الاحمدیہ سے یہ کہتا ہوں کہ وہ ہر سال ایک ہفتہ ایسا منایا کریں جس میں وہ جماعت کے افراد کے سامنے مختلف تقاریر کے ذریعہ نہ صرف اپنی جماعت کے عقائد بیان کیا کریں بلکہ یہ بھی بیان کیا کریں کہ دوسروں کے کیا اعتراضات ہیں اور ان اعتراضات کے کیا جوابات ہیں ؟ ہر بیت الذکر میں اس قسم کی تقریریں ہونی چاہئیں اور جماعت کے دوستوں کو بتانا چاہئے کہ لوگ یہ یہ اعتراضات کرتے ہیں اور ان اعتراضات کے یہ جوابات ہیں۔فرض کرو خلافت کا مسئلہ جس رنگ میں ہماری جماعت کی طرف پیش کیا جاتا ہے وہ غلط ہے تو کیوں کسی کا حق نہیں کہ وہ ہمیں سمجھائے۔یا فرض کرو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی نہیں تو جو شخص ہمیں سمجھاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی نہیں وہ ہمارا محسن ہے نہ کہ دشمن بشر طیکہ وہ شرارت یا بد دیانتی نہ کر رہا ہو۔مگر مشکل یہ ہے کہ ہمارے بعض مخالف سنجیدگی اور شرافت کے ساتھ بات نہیں کرتے اور پھر جو حوالے پیش کرتے ہیں۔ان میں بھی دیانت سے کام نہیں لیا جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کچھ لکھا ہوتا ہے اور وہ کسی اور رنگ میں اسے پیش کر رہے ہوتے ہیں۔اگر وہ شرافت کے ساتھ اپنے عقائد کو پیش کریں تو ان کی باتیں خوشی کے ساتھ سننے کے لئے تیار ہیں۔قادیان میں ایک دفعہ آریوں کے جلسہ پر دیا نند کالج کے ایک پروفیسر صاحب آئے۔ان دنوں میں اس بیت اقصیٰ میں درس دیا کرتا تھا۔جلسہ سے فارغ ہو کر مجھے ملنے کے لئے اسی بیت میں آگئے۔میں نے ان سے کہا کہ قادیان ایسا مقام ہے جس میں ہماری تعد اد دو سروں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔پس یہاں آپ کا آنا اسی صورت میں فائدہ بخش ہو سکتا تھا جب آپ اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کرتے ورنہ آپ کے اپنے آدمی تو جانتے ہی ہیں کہ آپ کے کیا عقائد ہیں اور ان عقائد کے کیا دلائل ہیں۔اگر یہاں آکر بھی آپ نے اپنے آدمیوں کے سامنے ہی ایک تقریر کر دی۔تو اس کا کیا فائدہ ہوا۔فائدہ تو تب ہو تا جب آپ ہمیں بتاتے کہ آپ کے مذاہب کی کیا تعلیم ہے؟ وہ کہنے لگے بات تو ٹھیک ہے۔مگر میں نے سمجھا کہ آپ اپنے آدمیوں کو ہماری باتیں سننے کے لئے کب اکٹھا کر سکتے ہیں ؟ میں نے ان سے کہا۔یہ غلط ہے۔بيت الذکر ہمارا سب سے مقدس مقام ہوتا ہے اور بيت الذکر ہمار ا سب سے مقدس مقام ہوتا ہے پھر یہ بیت الذکر تو وہ ہے جسے ہم بیت اتمی قرار ا دیتے ہیں۔آپ آئیں اور اس بیت الذکر میں تقریر کریں۔میں اپنی جماعت کے دوستوں سے کہوں گا کہ وہ آپ کی تقریر کو سنیں چنانچہ اس بیت الذکر میں دیا نند کالج کے پروفیسر صاحب نے تقریر کی اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے ان سے تبادلہ خیالات کیا۔تو خیالات کا تبادلہ بڑی بابرکت چیز ہے۔اگر ہماری جماعت التزام کے ساتھ دوسروں کے خیالات کو سنے ان کے لٹریچر کو پڑھے اور ان کے دلائل کو معلوم کر کے ان کے جوابات کو جماعت کے ہر فرد کے ذہن میں اچھی طرح راسخ کر دے۔