مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 227

227 سے مخفی رہیں گے اور ان کا کوئی جواب ہمارے افراد کو نہیں آئے گا۔اسی طرح ہم وفات مسیح کے دلائل بھی زیادہ توجہ سے اپنے افراد کو نہیں سکھا سکیں گے کیونکہ وفات مسیح کے دلائل کی ضرورت بھی حیات مسیح کے دعوئی کے مقابلہ میں ہی پیش آیا کرتی ہے لیکن اگر دوسرا شخص حیات مسیح کے دلائل پیش کرے اور وہ دلائل ہماری جماعت کے افراد کے سامنے آتے رہیں۔تو ہم اس بات پر مجبور ہوں گے کہ انہیں وفات مسیح کے دلائل بھی سمجھائیں۔اسی طرح اگر ہم کہہ دیں کہ مسئلہ نبوت کے بارہ میں کسی مخالف کی کوئی کتاب نہ پڑھی جائے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ اپنی جماعت کو اپنے عقیدہ کے دلائل بتانے میں بھی ہم ست ہو جائیں گے اور جو لوگ وفات مسیح یا مسئلہ نبوت کو ہم میں مانے والے ہوں گے ، وہ بھی علی وجہ البصیرت ان مسائل پر قائم نہیں ہوں گے بلکہ تقلیدی رنگ میں ہوں گے۔حالانکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہر مسلمان دلائل اعتقادات کی بنیاد ودلائل اور شواہد پر ہونی چاہئے اور شواہد کی بناء پر اپنے تمام اعتقادات رکھے۔چنانچہ قرآن کریم میں رسول کریم ملی و اسلام کا یہی دعوئی بیان ہوا ہے کہ میں اور میرے متبع دلائل سے اسلام کو مانتے ہیں مگر تم اپنی باتوں پر بے دلیل قائم ہو اور جو قوم کسی بات کو بے دلیل مان لیتی ہے ، وہ کبھی برکت حاصل نہیں کر سکتی۔برکت اسی کو حاصل ہوتی ہے جو بادلیل مانے چاہے وہ بچے مذہب میں ہی کیوں شامل نہ ہو۔اگر ایک مسلمان اس لئے خدا کو ایک سمجھتا ہے کہ اس کی ماں باپ خدا کی وحدانیت پر ایمان رکھتے تھے۔اگر ایک مسلمان اس لئے نمازیں پڑھتا ہے۔کہ اس نے اپنے ماں باپ کو ہمیشہ نمازیں پڑھتے دیکھا۔اگر ایک مسلمان اس لئے روزے رکھتا ہے کہ اس نے اپنے ماں باپ اور اپنی قوم کے افراد کو روزے رکھتے دیکھا۔اگر ایک مسلمان اس لئے زکوۃ دیتا ہے کہ اس کی قوم زکوۃ دیتی ہے اور اگر ایک مسلمان اس لئے حج کرتا ہے کہ اور لوگوں کو بھی وہ حج کرتے دیکھتا ہے تو قیامت کے دن اس کی توحید اس کی نمازیں اس کے روزے اس کی زکوۃ اور اس کا حج اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے بلکہ خدا کہے گا کہ بے شک تم نے توحید کے عقیدہ پر ایمان رکھا۔مگر میں اس کا ثواب تمہارے ماں باپ کو دوں گا جنہوں نے دلائل سے میری وحدانیت پر ایمان رکھا تھا۔اسی طرح بے شک تم نے نمازیں بھی ھیں ، تم نے روزے بھی رکھے ، تم نے زکوۃ بھی دی ، تم نے حج بھی کیا مگر چونکہ یہ تمام اعمال تم نے دوسروں کو دیکھ کر کئے اور خود ان اعمال کی حقیقت اور حکمت کو نہ سمجھا۔اس لئے جو لوگ نماز میں سمجھ کر پڑھا کرتے تھے۔روزے سمجھ کر رکھا کرتے تھے۔زکوۃ سمجھ کر دیا کرتے تھے اور حج سمجھ کر کیا کرتے تھے میں ان تمام نیکیوں کا ثواب ان کو دوں گا نہ کہ تمہیں۔اس طرح ہر نیکی کا ثواب مارا جائے گا اور وہ ان لوگوں کو دیا جائے گا۔جنہوں نے سوچ سمجھ کر نیکیاں کی ہوں گی۔پس یہ طریق بڑا خطرناک ہے۔جو قوموں کو تباہ و برباد کر دینے والا ہے اور یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے جس کو جلد سے جلد دور کرنا چاہیے۔بے شک ایسی باتیں جن سے فتنہ پیدا ہونے کا امکان ہو۔ان سے روکنا ہمارے لئے