مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 207

207 ر نہیں گئے تھے اسی طرح وہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں سزا دی جائے اور جبرا ان سے احکام کی تعمیل کرائی جائے۔ڈنڈے سے میری مراد سوٹا نہیں بلکہ جبرا اور حکم مراد ہے۔بهر حال ان لوگوں نے مجھے مجبور کر دیا قادیان میں خدام الاحمدیہ کا کام طوعی نہیں بلکہ جبری ہو گا ہے کہ میں جماعت کے سامنے یہ اعلان کر دوں کہ آج سے قادیان میں خدام الاحمدیہ کا کام طوعی نہیں بلکہ جبری ہو گا۔ہر وہ احمدی جس کی پندرہ سے چالیس سال تک عمر ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنا نام لکھا دے۔اگر ۱۵ سے ۴۰ سال تک کی عمر کا کوئی احمدی ۱۵ دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنا نام نہیں لکھائے گا تو پہلے اسے سزا دی جائے گی اور اگر اس سے بھی اس کی اصلاح نہ ہوئی تو اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔اس کے لئے کسی کو تحریک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔خدام الاحمدیہ ہر گز کسی کے پاس نہ جائیں۔ہاں ہر بیت الذکر میں وہ اپنے بعض آدمی مقرر کر دیں۔اور ہر نماز کے بعد اعلان ہو تا رہے کہ فلاں وقت سے لیکر فلاں وقت تک ہمارا آدمی بیت الذکر میں بیٹھے گا جس نے خدام الاحمدیہ میں اپنا نام لکھانا ہو وہ اسے نام لکھا اور محلہ کے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا فرض ہے کہ محلہ کے پریڈیڈ نٹوں اور سیکرٹریوں کا فرض اس کے متعلق خدام الاحمدیہ کی طرف سے جو بھی اعلانات آئیں ان کے سنانے کا فوری طور پر انتظام کریں۔جو پریذیڈنٹ یا سیکرٹری اس میں غفلت سے کام لے گاوہ مجرم سمجھا جاوے گا اور اسے سزا دی جائے گی۔غرض تمام بیوت الذکر میں خدام الاحمدیہ اعلان کرا دیں کہ فلاں وقت سے لیکر فلاں وقت تک اس بیت الذکر میں ہمار ا فلاں آدمی بیٹھے گا اسے نام لکھا دیا جائے۔بلکہ انہیں اپنے بعض آدمی قریب کے دیہات میں بھی مقرر کر دینے چاہئیں۔جیسے نواں پنڈ وغیرہ ہے۔اس پندرہ دن کے عرصہ میں جو شخص خدام الاحمدیہ میں اپنا نام نہیں لکھائے گا ہم پہلے اس پر کیس چلا ئیں گے۔اگر کوئی معذور ثابت ہوا۔مثلاً ان دنوں وہ قادیان میں موجود نہ تھا یا چار پائی سے ہل نہیں سکتا تھا تو اس کو خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے کا دوبارہ موقع دیتے ہوئے باقی ہر ایک کو جس نے ان دنوں خدام الاحمدیہ میں اپنا نام نہیں لکھایا ہو گا سزا دی جائے گی۔اور اگر وہ سزا برداشت کرنے کیلئے تیار نہ ہو گا تو اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ہم سزا نہیں لیتے۔ہم خدام الاحمدیہ کے ممبر نہیں رہنا چاہئے۔ان کے متعلق خدام الاحمدیہ فورا ایک کمیٹی بٹھا دیں جو تحقیق کرے کہ ان پر جو الزام لگایا گیا ہے وہ درست ہے یا نہیں۔پھر جن کا جرم ثابت ہو جائے انہیں تین تین دن کے مقاطعہ کی سزادی جائے۔ان تین دنوں میں کسی کو اجازت نہیں ہو گی کہ ان سے بات چیت کرے نہ باپ کو اجازت ہوگی نہ ماں کو اجازت ہو گی۔نہ بیوی کو اجازت ہوگی نہ بیٹے کو اجازت ہو گی۔اور نہ کسی