مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 199
199 دعا کردی۔اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ بے شک مکہ والوں کے متعلق انہوں نے اعتراض کا جواب بھی دعا کی تھی کہ ان میں ایک رسول آئے مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ رسول ایسا کامل تھا کہ اس پر اس قسم کی موت آہی نہیں سکتی تھی کہ اس کی تعلیم کا اثر لوگوں کی طبائع پر سے کلیتہ جاتا رہے۔بلکہ مقدر یہ تھا کہ جب بھی طبعی طور پر یہ اثر جاتا رہے گا خدا اسی رسول کو دوبارہ مبعوث کر دے گا اور چونکہ اس رسول نے اپنے متبع اظلال کے ذریعہ بار بار دنیا میں آنا تھا اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت سے رسول مانگنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔غرض اللہ تعالٰی نے بتا دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب یہ دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَ أبعث فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهم تو اس رسولا منهم سے مراد خاتم النبیین تھا۔اور چونکہ خاتم النبیین کی نبوت میں بعد میں آنے والے تمام نبیوں اور رسولوں کی نبوت شامل تھی۔اس لئے یہ ضرورت ہی نہ تھی کہ رسولا منھم کی بجائے رُسُلًا منھم کہا جاتا۔رسول کریم صل کی بعثت پس ہمیں اس آیت سے یہ نکتہ معلوم ہوا کہ رسول کریم ملی کی بعثت اپنی ذات میں ہی بعد میں آنے والے رسولوں اور اماموں کی خبر دیتی تھی۔آپ کے علاوہ دنیا میں اور کوئی ایسار سول نہیں جو اپنی ذات میں آنے والے انبیاء کی خبر دیتا ہو۔موسیٰ کانفس اپنی ذات میں منفرد تھا۔داؤد کا نفس اپنی ذات میں منفرد تھا اسی طرح اور انبیاء کے نفوس اپنی اپنی ذات میں منفرد تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیاء آئے۔مگر وہ ان کے ظل نہیں تھے۔بلکہ تابع تھے۔عیسی موسی" کے ظل ان معنوں میں نہیں تھے جن معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسول کریم میں کے ظل ہیں۔یوں تو ظل پہلوں کے بھی ہوتے رہے ہیں مگر اس ظلیت کے معنی صرف مشابہت کے ہوا کرتے تھے جیسے حضرت عیسی الیاس کے ظل تھے۔مگر ظل کے یہ معنی نہیں تھے کہ وہ الیاس کے ماتحت تھے۔وہاں ایک تابع ہو سکتا تھا جو ظل نہ ہو۔اور ایک ظل ہو سکتا تھا جو تابع نہ ہو۔عیسی علیہ السلام ظل تھے الیاس کے مگر الیاس کے تابع نہ تھے۔بلکہ تابع وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہی تھے۔تو ظلیت اور اتباع الگ الگ چیزیں ہوا کرتی تھیں۔طلیت کے معنی صرف اس جیسا" کے ہوا کرتے تھے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خبر دی کہ میرے بعد ایک میرے جیسا رسول آئے گا۔اب اس سے مراد رسول کریم میل ل ل ا ل ولی تھے مگر رسول کریم ملی حضرت موسیٰ کے تابع نہیں تھے۔پس پہلے انبیاء میں یہ ہو سکتا تھا کہ ایک نبی کسی دوسرے نبی کا ظل تو ہو مگر تابع نہ ہو یا تابع تو ہو مگر ظل نہ ہو جیسے حضرت عیسی علیہ السلام تابع تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ، مگر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ظل نہیں تھے اسی طرح وہ ظل تھے الیاس کے مگر وہ ان کے تابع نہ تھے بلکہ تابع حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تھے۔