مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 190
190 ہوں اور ہمارے سامانوں کی کمی کو پورا کر دیں اور یقینا اگر ہماری جماعت کے نوجوان نہ صرف دلائل سے کام لینے والے ہوں، نہ صرف اخلاق فاضلہ کے مالک ہوں بلکہ دعاؤں سے بھی کام لینے کے عادی ہوں تو ان کے مقابلہ میں کوئی طاقت نہیں ٹھر سکتی۔میں نے خدام الاحمدیہ کے سامنے ایک پروگرام خدام الاحمدیہ اپنے پروگرام کو ہمیشہ سامنے رکھے پیش کر دیا ہے اور میں انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان باتوں کو یا درکھیں جو میں نے بیان کی ہیں اور ہمیشہ اپنے آپ کو قومی اور ملکی خدمات کے لئے تیار رکھیں۔دنیا میں قریب ترین عرصہ میں عظیم الشان تغیرات رونما ہونے والے ہیں اور در حقیقت تحریک جدید ایک ہنگامی چیز کے طور پر میرے ذہن میں آئی تھی اور جب میں نے اس تحریک کا اعلان کیا ہے اس وقت خود مجھے بھی اس تحریک کی کئی حکمتوں کا علم نہیں تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک نیت اور ارادہ کے ساتھ میں نے یہ سکیم جماعت کے سامنے پیش کی تھی کیونکہ واقعہ یہ تھا کہ جماعت کی ان دنوں حکومت کے بعض افسروں کی طرف سے شدید ہتک کی گئی تھی اور سلسلہ کا وقار خطرے میں پڑ گیا تھا۔پس میں نے چاہا کہ جماعت کو اس خطرے سے بچاؤں مگر بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی رحمت انسانی قلب پر تصرف کرتی اور روح القدس اس کے تمام ارادوں اور کاموں پر حاوی ہو جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں میری زندگی میں بھی یہ ایسا ہی واقعہ تھا جب کہ روح القدس میرے دل پر اترا اور وہ میرے دماغ پر ایسا حاوی ہو گیا کہ مجھے یوں محسوس ہوا گویا اس نے مجھے ڈھانک لیا ہے اور ایک نئی سکیم ، ایک دنیا میں تغیر پیدا کر دینے والی سکیم میرے دل پر نازل کردی اور میں دیکھتا ہوں کہ میری تحریک جدید کے اعلان سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔قرآنی نکتے مجھ پر پہلے بھی کھلتے تھے اور اب بھی کھلتے ہیں مگر پہلے کوئی معین سکیم میرے سامنے نہیں تھی جس کے قدم قدم کے نتیجہ سے میں واقف ہوں اور میں کہہ سکوں کہ اس رنگ میں ہماری جماعت ترقی کرے گی مگر اب میری حالت ایسی ہی ہے کہ جس طرح انجنیئر ایک عمارت بناتا اور اسے یہ علم ہوتا ہے کہ یہ عمارت کب ختم ہو گی۔اس میں کہاں کہاں طاقچے رکھے جائیں گے۔کتنی کھڑکیاں ہوں گی۔کتنے دروازے ہوں گے۔کتنی اونچائی پر چھت پڑے گی۔اسی طرح دنیا کی اسلامی فتح کی منزلیں اپنی بہت سی تفاصیل اور مشکلات کے ساتھ میرے سامنے ہیں۔دشمنوں کی بہت سی تدبیریں میرے سامنے بے نقاب ہیں۔اس کی کوششوں کا مجھے علم ہے اور یہ تمام امور ایک وسیع تفصیل کے ساتھ میری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔تب میں نے سمجھا کہ یہ واقعہ اور فساد خد اتعالیٰ کی خاص حکمت نے کھڑا کیا تھا تا وہ ہماری نظروں کو اس عظیم الشان مقصد کی طرف پھرا دے جس کے لئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو بھیجا۔پس پہلے میں صرف ان باتوں پر ایمان رکھتا تھا مگر اب میں صرف ایمان ہی نہیں رکھتا بلکہ میں تمام باتوں کو دیکھ رہا ہوں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ سلسلہ کو کس کس رنگ میں نقصان پہنچایا جائے گا۔میں دیکھ رہا ہوں کہ سلسلہ پر کیا کیا حملہ کیا جائے گا اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری طرف سے ان حملوں کا کیا جواب دیا جائے گا۔