مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 172

172 سلا بھی دیں اور عمدہ باتیں بھی سکھائیں تو کھیلوں کے متعلق یہی نظریہ کیوں پیش نظر نہ رکھا جائے۔کیوں نہ بچوں کو ایسی کھیلیں کھلائی جائیں جن سے ان کا جسم بھی مضبوط ہو، ذہن بھی ترقی کرے اور پھر وہ آئندہ زندگی کے لئے سبق آموز بھی ہوں۔۔مثلاً میں نے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر بھی بتایا تھا کہ تیرنا ہے۔یہ کھیل کی کھیل ہے۔اس تیرا کی کی افادیت میں مقابلے کرائے جائیں تو بہت دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے۔غوطہ زنی میں لوگ مقابلے کرتے ہیں اور ایسی دلچسپی پیدا ہوتی ہے کہ مقابلہ کرنے والے اس وقت یہی سمجھتے ہیں کہ گویا زندگی کا مقصد یہی ہے۔بچوں کے لئے تیرنا بھی ایسی ہی دلچسپی کا موجب ہو سکتا ہے جیسافٹ بال کرکٹ یا ہاکی وغیرہ اور پھر یہ ان کے لئے آئندہ زندگی میں مفید بھی ہو سکتا ہے۔کبھی کشتی میں آدمی سفر کر رہا ہو بہشتی ڈوب جائے تو وہ اپنی جان بچا سکتا ہے یا کنارے پر بیٹھا کوئی کام کر رہا ہو اور کوئی ڈوبنے لگے تو اسے بچا سکتا ہے۔تو تیر نا صرف اس زمانہ کے لئے کھیل ہی نہیں بلکہ آئندہ زندگی میں اسے فائدہ دینے والی چیز ہے۔وہ بحری فوج میں آسانی سے داخل ہو سکتا ہے۔جہاز رانی میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے گویا یہ تمام عمر میں اسے فائدہ پہنچانے والا ہنر ہے اور اس لئے ایسی کھیل کے بجائے جو صرف بچپن میں کھیل کے ہی کام آئے یہ ایک ایسی کھیل ہے جو ساری عمر اس کے کام کے کام آسکتی ہے۔نشانہ بازی تیراندازی اور غلیل چلانا اسی طرح تیراندازی ہے۔غلیل چلانا ہے۔اس سے ورزش بھی ہوتی ہے۔بچے شکار کے لئے باہر جاتے ہیں اور دور نکل جاتے ہیں اور اس طرح تازہ ہوا بھی کھاتے ہیں۔بدن بھی مضبوط ہوتا ہے۔خلیل چلانے سے جسم میں طاقت آتی ہے۔اس کے مقابلے کرائے جاسکتے ہیں کہ کون زیادہ دور تیر پھینکتا ہے یا خلیلہ پھینک سکتا ہے۔غلیل جتنی سخت ہو مگر لچکنے والی ہو اتنا ہی خلیلہ زیادہ دور جاتا ہے مگر اسے پچکانے کے لئے طاقت ضروری ہوتی ہے۔جتنا کوئی زیادہ مضبوط ہو اتنا ہی زیادہ دور خلیلہ پھینک سکتا ہے کیونکہ وہ اتنا ہی غلیل کو زیادہ کھینچ کر لچکا سکتا ہے۔یہ چیز ورزش کا بھی موجب ہے۔شکار کے لئے زیادہ چلنا پڑتا ہے۔تازہ ہوا کھانے کا بھی موقع ملتا ہے اور پھر یہ ساری عمر کام آتی ہے۔خلیل چلانے والا بندوق کا نشانہ بندوق پکڑتے ہی سیکھ سکتا ہے۔ہم بچپن میں غلیل چلایا کرتے تھے اور مجھے یاد نہیں کہ کسی نے کبھی مجھے بندوق کا نشانہ سکھایا ہو۔پہلی دفعہ شیخ عبدالرحیم صاحب کہیں سے بندوق مانگ کر لائے۔میں اس وقت بہت چھوٹا تھا اور وہ پہلا نشانہ تھا۔انہوں نے پیچھے سے پکڑ رکھا اور میں نے بندوق چلائی۔گو میں خود بھی گر پڑا مگر جس جانور کا نشانہ کیا تھا، وہ بھی گر گیا۔ادھر میں گرا اور ادھر وہ۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ جو سپاہیوں میں بھرتی ہوتے ہیں وہ مدتوں اس وجہ سے افسروں کی گھر کیاں کھاتے ہیں کہ ٹھیک نشانہ نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ بچپن میں کوئی ایسا کام نہیں کیا ہو تاکہ نشانہ کی مشق ہو سکے۔اگر بچپن میں تیر یا فلیلہ چلانے کی مشق ہو تو جب بھی بندوق چلانے لگیں، فور انشانہ درست ہو سکتا ہے اور پھر اس سے بچپن میں صحت بھی درست