مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 165

165 کہہ دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے نفس میں شرمندگی پیدا ہوگی اور وہ آئندہ کے لئے اس نقص کو دور کرنے کی کوشش کرے گا یا دوسرے لوگ جن کی زبانوں میں اللہ تعالیٰ نے تاثیر رکھی ہے ان سے لیکچر دلائے جائیں۔پس لیکچروں کے ذریعہ سے حاضری لگانے کے ذریعہ سے اپنی سوسائٹی میں بار بار ایسے ریزولیوشنز پاس کرنے کے ذریعہ سے ، نگرانی کے ذریعہ سے اور ایسے کام دینے کے ذریعہ سے جن کو روزانہ با قاعدگی کے ساتھ کرنا پڑے نوجوانوں کے اندر استقلال کا مادہ پیدا کیا جا سکتا ہے اور میں خدام الاحمدیہ کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں۔میں باوجود اس کے کہ کئی خطبات پڑھ چکا ہوں، ابھی تک وہ باتیں ختم نہیں ہو ئیں جو خدام الاحمدیہ کے میں ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں۔اب تک میں سات فرائض کی طرف خدام الاحمدیہ کو توجہ دلا چکا ہوں اور دو باتیں ابھی رہتی ہیں۔انہیں انشاء اللہ تعالیٰ اگلے جمعہ میں بیان کروں گا۔اب میں خدام الاحمدیہ سے صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ باتیں تو بہت کچھ بیان ہو چکی ہیں ، اب انہیں کوئی عملی قدم بھی اٹھانا چاہئے۔میرا خیال تھا کہ میں جلدی ہی تمام باتیں بیان کر لوں گا مگر خطبے بہت لمبے ہو گئے ہیں۔ان خطبوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ بعض دفعہ پچھلی باتیں انسان بھول جاتا ہے اور جب ان کی طرف توجہ کرتا ہے تو پہلی باتیں ان کے ذہن سے اتر جاتی ہیں۔پس اب جس قدر جلدی ہو سکے کام کو عملی رنگ میں شروع کر دینا چاہئے کیونکہ تازہ بتازہ علم انسان جلد استعمال کر لیتا ہے اور جس قدر پرانا ہو جائے اتنا ہی اس پر عمل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کا مددگار ہو"۔(خطبه جمعه فرموده ۳ مارچ ۱۹۳۹ء مطبوعه الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۳۹ء)