مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 164

164 افسروں کے پاس ان کی شکایت کریں۔وہاں بھی اگر اصلاح نہ ہو تو پھر ان سے اعلیٰ افسروں کے پاس اور پھر ان سے اعلیٰ افسروں کے پاس یہاں تک کہ ہوتے ہوتے خلیفہ وقت کے سامنے بھی ان کے ناموں کو رکھا جا سکتا ہے مگر ضروری ہے کہ پہلے خود ان کا علاج سوچا جائے اور ان سے عدم استقلال کا مرض دور کرنے کے لئے کوئی مناسب تجویز کی جائے مثلاً ایک علاج یہی ہو سکتا ہے کہ روزانہ کوئی کام انہیں کرنے کے لئے دیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ وہ با قاعدہ اس کام کو کرتے ہیں یا نہیں۔یہ ضروری ہے کہ وہ کام ایسا ہو جو سب کو نظر آتا ہوں خواہ کتناہی حقیر نظر آنے والا کیوں نہ ہو مثلا یہ کام بھی ہو سکتا ہے کہ اسے کہہ دیا جائے کہ روزانہ دس بجے اپنے گھر سے باہر نکل کر پانچ منٹ اپنے مکان کا پہرہ دے۔بظاہر یہ ایک بیوقوفی کی بات دکھائی دے گی مگر تمہیں تجربہ کے بعد معلوم ہو جائے گا کہ اس بظاہر بیوقوفی والی بات پر عمل کرنے کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ اس میں استقلال کی عادت پیدا ہو جائے گی اور در حقیقت کسی ایک کام کا بھی باقاعدگی کے ساتھ کرنا انسان کے اندر استقلال کا مادہ پیدا کر دیتا ہے۔ہم پانچ وقت جو روزانہ باجماعت نماز استقلال کا مادہ پیدا کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے نمازیں پڑھتے ہیں یہ بھی استقلال پیدا کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں۔اسی لئے میں یہ کہا کرتا ہوں کہ جس نے ایک نماز بھی چھوڑی اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے سب نمازیں چھوڑ دیں مگر جو شخص پانچوں وقت کی نماز میں با قاعدہ پڑھنے کا عادی ہے اس کی طبیعت میں ایک حد تک ضرور استقلال پایا جاتا ہے۔مگر جو شخص دس سال کے بعد بھی ایک نماز چھوڑ دیتا ہے وہ عدم استقلال کا مریض ہے۔پس اپنے اندر استقلال پیدا کرنے کی کوشش کرو چاہے کسی چھوٹی سی چھوٹی بات پر مداومت کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔تم کہہ سکتے ہو کہ جب کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو ہمیں کوئی اور ایسا کام اس کے سپرد کرنے کی کیا ضرورت ہے جو استقلال پیدا کرنے والا ہو مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ تم اس کی نمازوں کی نگرانی نہیں کر سکتے لیکن جو کام تم اس کے سپرد کرو گے اس کی نگرانی تم ضرور کرو گے۔پھر ممکن ہے وہ نمازیں پڑھتا ہی نہ ہو یا پانچ میں سے تین نمازیں پڑھتا ہو اور دو چھوڑ دیتا ہو یا چار پڑھتا ہو اور ایک چھو ڑ دیتا ہے یا مہینہ میں سے کوئی ایک نماز چھوڑ دیتا ہو تو اس بات کا تمہیں پتہ نہیں لگ سکتا کہ وہ نمازوں میں با قاعدہ ہے یا نہیں کیونکہ وہ ذاتی عبادت ہے اور ذاتی عبادت کی دوسرا شخص مکمل نگرانی نہیں کر سکتا لیکن وہ حکم جو تم خود دوسرے کو دو گے اس کی نگرانی بھی کرو گے اور اس طرح اس کے اندر استقلال کا مادہ پیدا ہو تا چلا جائے گا۔میں اس کے لئے بھی مناسب قواعد تجویز کر کے خدام استقلال کا مادہ پیدا کرنے کی مختلف تدابیر الاحمدیہ کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں۔انہیں چاہئے کہ وہ ان تمام باتوں کو جو خطبات میں میں نے بیان کی ہیں بار بار لیکچروں کے ذریعہ خدام الاحمدیہ کے سامنے دہراتے رہیں۔کبھی دیکھا کہ کوئی شخص استقلال اپنے اندر نہیں رکھتا تو اس کو استقلال پر لیکچر دینے کے لئے