مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 151
151 سیکھ گیا۔خیر انہی دنوں کوئی رئیس بیمار ہو گیا اور اس نے اس لڑکے کو علاج کے لئے بلایا۔یہ گیا۔نبض دیکھی۔حالات پوچھے اور پھر کہنے لگا آپ رئیس آدمی ہیں بھلا آپ کو ایسی چیزیں کہاں ہضم ہو سکتی ہیں۔اچھا بتائیے کیا آپ نے کل گھوڑے کی زین تو نہیں کھائی۔وہ کہنے لگا کیسی نا معقول باتیں کرتے ہو۔گھوڑے کی زین بھی کوئی کھایا کرتا ہے۔وہ کہنے لگا آپ مانیں یا نہ مانیں کھائی آپ نے گھوڑے کی زمین ہی ہے۔نوکروں نے جو دیکھا کہ یہ ہمارے آقا کی ہتک کر رہا ہے تو انہوں نے اسے خوب پیٹا۔وہ مار کھاتا جائے اور کہتا جائے کہ تشخیص تو میں نے ٹھیک کی ہے اب تم میری بات نہ مانو تو میں کیا کروں۔آخر انہوں نے پوچھا تیرا اس سے مطلب کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ جس طبیب سے میں نے طب سیکھی ہے وہ ایک دن مجھے ساتھ لے کر ایک مریض دیکھنے کے لئے گئے۔میں ان کی حرکات کو خوب تاڑ تا رہا۔میں نے دیکھا کہ حکیم صاحب نے ادھر ادھر نظر دوڑائی اور چند چنے کے دانے جو چار پائی کے نیچے گرے ہوئے تھے ، وہ اٹھالئے اور پہلے تو ان دانوں سے کھیلتے رہے پھر مریض سے کہنے لگے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے چنے کھائے ہیں اور اس نے اقرار کیا کہ واقع میں میں نے چنے کھائے ہیں۔میں اس سے فورا سمجھ گیا کہ جب کسی مریض کو دیکھنے کے لئے جانا پڑے تو جاتے ہی اس کی چار پائی کے نیچے نظر ڈالنی چاہئے اور جو چیز اس کی چارپائی کے نیچے ہو اس کے متعلق یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کے کھانے سے مریض بیمار ہوا ہے۔اب میں جو یہاں آیا تو آتے ہی میں نے ان کی چارپائی کے نیچے نظر ڈالی تو مجھے گھوڑے کی زین نظر آئی۔پس میں سمجھ گیا کہ یہ گھوڑے کی زمین کھا کر ہی بیمار ہوئے ہیں۔اب دیکھو جس چیز کا نام اس نے ذہانت رکھا ہوا تھا، وہ ذہانت نہیں تھی بلکہ حماقت اور بے وقوفی تھی اور گو اس مثال پر تم سب ہنس پڑے ہو مگر اس قسم کی بے وقوفیاں تم بھی کرتے رہتے ہو۔الا ماشاء اللہ جیسے میں نے بتایا ہے سو میں سے ایک ممکن ہے ، ذہین ہو لیکن سو میں سے نانوے یقیناً ذہانت سے عاری ہوتے ہیں۔ہندوستان کی ۳۳ کروڑ آبادی ہے اور سو میں ایک کے ذہین ہونے یہ معنی ہیں کہ اس ملک میں صرف ۳۳ لاکھ آدمی ذہین ہیں۔اب ۳۳ لاکھ بھلا ۳۳ کروڑ کا بوجھ کس طرح اٹھا سکتا ہے۔گو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک فی صدی کی نسبت بھی خاص ہو شیار جماعتوں میں پائی جاتی ہوگی ، عام جماعتوں میں ایک فی صدی کی نسبت بھی نہیں اور اس کا احساس مجھے اسی وقت ہوا ہے کیونکہ جب میں نے ۳۳ کروڑ کا سواں حصہ ۳۳ لاکھ نکالا تو میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ یہ اندازہ غلط ہے کیونکہ ہندوستان میں ہر گز ۳۳ لاکھ ذہین آدمی نہیں ہیں۔اگر اتنے ذہین آدمی ہوتے تو اس ملک کی کایا پلٹ جاتی۔ممکن ہے ہماری جماعت میں جسے ہر وقت علمی باتیں سنائی جاتی ہیں ایک فی صدی کی نسبت سے ذہین آدمیوں کا وجود پایا جاتا ہو لیکن اور جماعتوں میں ایک فی صدی کی نسبت بھی نہیں۔وہ کبھی بات کو چاروں گوشوں سے نہیں دیکھیں گے اور ہمیشہ غلط نتیجہ پر پہنچیں گے۔ابھی پچھلے سفر میں جب میں کراچی گیا تو وہاں بغداد سے ہماری جماعت کے ایک دوست میرے پاس آئے اور انہوں نے کھجوروں کا ایک بکس پیش کیا اور کہا کہ یہ کھجور میں بغداد کی جماعت نے بھجوائی ہیں۔ہم کراچی میں