مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 110

110 لے سکتا۔اس میں اللہ تعالی نے مجھے سبق دیا تھا کیونکہ مجھے ورزش کا خیال نہیں تھا۔تو ورزش بھی کام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مونگریاں اور مدر پھیرا کرتے تھے بلکہ وفات سے سال دو سال قبل مجھے فرمایا کہ کہیں سے مونگریاں تلاش کرو۔جسم میں کمزوری محسوس ہوتی ہے چنانچہ میں نے کسی سے لا کر دیں اور آپ کچھ دن انہیں پھراتے رہے بلکہ مجھے بھی بتاتے تھے کہ اس اس رنگ میں اگر پھیری جائیں تو زیادہ مفید ہیں۔پس ورزش انسان کے کاموں کا حصہ ہے۔ہاں گلیوں میں بیکار پھرنا بیکار بیٹھے باتیں کرنا اور بحثیں کرنا آوارگی ہے اور ان کا انسداد خدام الاحمدیہ کا فرض ہے۔اگر تم لوگ دنیا کو وعظ کرتے پھرو لیکن احمدی بچے آوارہ پھرتے رہیں تو تمہاری سب کو ششیں رائیگاں جائیں گی۔پس تمہارا فرض ہے کہ ان باتوں کو روکو۔دکانوں پر بیٹھ کر وقت ضائع کرنے والوں کو منع کرو اور کوئی نہ مانے تو اس کے ماں باپ استادوں کو اور محلہ کے افسروں کو رپورٹ کرو کہ فلاں شخص آوارہ پھر تایا فارغ بیٹھ کر وقت ضائع کرتا ہے۔پہلے پہل لوگ تمہیں گالیاں دیں گے، برا بھلا کہیں گے اور کہیں گے کہ آگئے ہیں خدائی فوجدار اور طنزیہ رنگ میں کہیں گے کہ بس پکے احمدی تو یہ ہیں ہم تو یونہی ہیں لیکن آخر وہ اپنی اصلاح پر مجبور ہوں گے اور پھر تمہیں دعائیں دیں گے جیسا کہ میں نے بتایا ہے جن لوگوں نے میری تربیت میں حصہ لیا اور کوئی اچھی بات بتائی ، جب بھی وہ یاد آتی ہے میرے دل سے ان کے لئے دعا نکلتی ہے۔پس آوارگی کو مٹانا بھی خدام الاحمدیہ کے فرائض میں سے ہے۔اب چونکہ دیر ہو گئی ہے۔اس لئے باقی باتیں پھر بیان کروں گا۔" (خطبه جمعه فرموده ۱۰ فروری ۱۹۳۹ء مطبوعہ الفضل امارچ ۱۹۳۹ء)