مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 109

109 دینے لگتے ہیں۔میں تو ایسے شخص سے یہی کہوں گا کہ بے حیاء خداتعالی نے تجھے ایمان دیا تھا مگر تو کفر کی چادر اوڑھنا چاہتا ہے۔پس یہ ڈیبیٹس بھی آوارگی میں داخل ہیں۔اگر خدا تعالی نے تمہیں یہ توفیق دی ہے کہ حق بات کو تم مان لیا تو اس کا شکریہ ادا کردنه که خواہ مخواہ اس کی تردید کرو۔بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس سے عقل بڑ ہے لیکن اس عقل کے بڑھانے کو کیا کرنا ہے جس سے ایمان جاتا رہے۔دونوں باتوں کا موازنہ کرنا چاہئے۔اگر ساری دنیا کی عقل مل جائے اور ایمان کے پہاڑ میں سے ایک ذرہ بھی کم ہو جائے تو اس عقل کو کیا کرنا ہے۔یہ کوئی نفع نہیں بلکہ سرا سر خسران اور تباہی ہے۔پس یہ بھی آوارگی میں داخل ہے اور میں نے کئی دفعہ اس سے روکا ہے مگر پھر بھی ڈیبیٹیں ہوتی رہتی ہیں۔جس طرح کوڑھی کو خارش ہوتی ہے اور وہ رہ نہیں سکتا اسی طرح ان لوگوں کو بھی کچھ ایسی خارش ہوتی ہے کہ جب تک ڈیبیٹ نہ کرالیں ، چین نہیں آتا۔اور پھر دینی اور مذہبی مسائل کے متعلق بھی ڈیبیٹیں ہوتی رہتی ہیں حالانکہ وہ تمام مسائل جن کی صداقتوں کے ہم قائل ہیں یا جن میں سلسلہ اظہار رائے کر چکا ہے ان پر بحث کرنا دماغی آوارگی ہے اور حقیقی ذہانت کے لئے سخت مضر ہے۔میں نے سو دفعہ بتایا ہے کہ اگر اس کے بجائے یہ کیا جائے کہ دوست اپنی اپنی جگہ مطالعہ کر کے آئیں اور پھر ایک مجلس میں جمع ہو کر یہ بتائیں کہ فلاں مخالف نے یہ اعتراض کیا ہے بجائے اس کے کہ یہ کہیں کہ میں یہ اعتراض فلاں مسئلہ پر کرتا ہوں۔اگر مولوی شاء اللہ صاحب یا مولوی ابراہیم صاحب یا کسی اور مخالف کے اعتراض پیش کئے جائیں اور پھر سب مل کر جواب دیں اور خود اعتراض پیش کرنے والا بھی جواب دے تو یہ طریق بہت مفید ہو سکتا ہے۔مگر ایسا نہیں کیا جا تا بلکہ ڈیبیٹوں کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور انگریزوں کی نقل کی جاتی ہے کہ ”ہاؤس" یہ کہتا ہے۔ہماری مجلس شوری میں بھی یہ " ہاؤس " کا لفظ داخل ہو گیا تھا مگر میں نے تنبیہہ کی۔اس پر وہاں سے تو نکل گیا ہے مگر مدرسوں میں رواج پکڑ رہا ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح کہنے سے اس بات میں کونسا سرخاب کا پر لگ جاتا ہے۔سیدھی طرح کیوں نہیں کہہ دیا جاتا کہ جماعت کی یہ رائے ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ دماغ کو کفر کی کاسہ لیسی میں لذت اور سرور حاصل ہو تا ہے۔خدام الاحمدیہ نوجوانوں کو جسمانی اور دماغی آوارگیوں سے بچانے کی مقدور بھر کوشش کریں۔پس خدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ اس قسم کی آوارگیوں کو خواہ وہ دماغی ہوں یا جسمانی ، روکیں اور دور کریں۔کھیلنا آوارگی میں داخل نہیں۔ایک دفعہ مجھے رویا میں بتایا گیا ایک شخص نے خواب میں ہی مجھے کہا کہ فلاں شخص ورزش کر کے وقت ضائع کر دیتا ہے اور میں رویا میں ہی اسے جواب دیتا ہوں کہ یہ وقت کا ضیاع نہیں۔جب کوئی اپنے قومی کا خیال نہیں رکھتا تو دینی خدمات میں پوری طرح حصہ نہیں