مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 107

107 ایک چھوٹا سا ادب خطبہ کو توجہ سے سننا ہے اور میں کئی بار اس کی طرف توجہ بھی دلا چکا ہوں۔مگر میں نے دیکھا ہے لوگ برابر باتیں اور اشارے کرتے رہتے ہیں اور اساتذہ یا دوسرے لوگ کوئی اخلاقی دباؤ نہیں ڈالتے کہ جس سے اصلاح ہو۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ عادت ہمیشہ ہی چلتی چلی جاتی ہے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا میں خطبہ پڑھ رہا تھا۔ایک شخص کو میں قریبا پندرہ منٹ تک دیکھتا رہا کہ وہ اپنے ایک بعد میں آنے والے دوست کو برابر اشارے کرتا رہا کہ آگے آجاؤ۔اگر بچپن میں ماں باپ یا استاد یا دوسرے لوگ اسے یہ بتاتے کہ یہ نا جائز ہے اور کہ جب تمہاری اپنی ہدایت کا سوال پیدا ہو جائے تو دوسرے کو گمراہی سے بچانے کا موقعہ نہیں ہو تا تو وہ اس گناہ کا مرتکب نہ ہو تا۔یہ اس جوش کی وجہ سے کہ دوست آگے آجائے اور خطبہ سن لے اسے اشارے کرتا تھا لیکن وہ شرم کی وجہ سے آگے نہ بڑھتا تھا اور اگر یہ مسئلہ بچپن سے ہی اس کے ذہن نشین ہو تا تو کبھی دوسری طرف اس کی نظر ہی خطبہ کے دوران نہ اٹھتی اور اس طرح کسی کو اشارے کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا اور یہ دوسرے کی ہدایت کے جوش میں خود گمراہی کا مرتکب نہ ہو تا۔بچوں کو ہر وقت اچھے کاموں میں مصروف رکھنے سے آوارگی کا امکان نہیں رہتا یہ تربیت تعلق رکھنے والے مسائل ہیں۔اور ان سے آوارگی دور ہوتی ہے۔پھر بچہ کو ہر وقت کسی نہ کسی کام میں لگائے رکھنا چاہئے۔میں کھیل کو بھی کام ہی سمجھتا ہوں، یہ کوئی آوارگی نہیں۔آوارگی میرے نزدیک فارغ اور بیکار بیٹھنے کا نام ہے یا اس چیز کا کہ گلیوں میں پھرتے رہے۔اس بات کا اچھی طرح خیال رکھنا چاہئے کہ بچے یا پڑھیں یا کھیلیں یا کھائیں اور یا کھیل آوارگی نہیں سوئیں۔کھیل آوارگی نہیں۔اس لئے اگر وہ دس گھنٹے بھی کھیلتے ہیں، کھیلنے دو۔اس سے ان کا جسم مضبوط ہو گا اور آوارگی بھی پیدا نہ ہو گی۔پس کھیلنا بھی ایک کام ہے جس طرح کھانا اور سونا بھی کام ہے۔مگر خالی بیٹھنا اور باتیں کرتے رہنا آوارگی ہے۔اس لئے خدام الاحمدیہ کو کوشش کرنی چاہئے کہ جماعت کے بچوں میں یہ آوارگی پیدا نہ ہو۔کسی کو یونہی پھرتے دیکھیں تو اس سے پوچھیں کہ کیوں پھر رہا ہے۔اگر باز نہ آئے تو محلہ کے پریذیڈنٹ کو رپورٹ کریں اور ان سب باتوں کے لئے اصول وضع کریں جن کے ماتحت کام ہو۔میں نے دیکھا ہے کئی لوگ گھنٹوں دکانوں پر بیٹھے فضول باتیں کرتے رہتے ہیں حالانکہ اگر اسی وقت کو وہ تبلیغ میں صرف کریں تو کئی لوگوں کو احمدی بنا سکتے ہیں لیکن فضول وقت ضائع کر دیتے ہیں اور اگر کام کے لئے پوچھا جائے تو کہہ دیتے کہ فرصت نہیں حالانکہ اگر فرصت نہیں ہوتی تو دوکانوں پر کس طرح بیٹھے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ایک اور ذریعہ نوجوانوں میں علمی اور دینی موضوعات پر گفتگو کرنے کا شوق پیدا کیا جائے اصلاح کا یہ بھی ہے کہ بیٹھ کر علمی اور دینی باتیں کی جائیں۔اچھے انداز میں گفتگو کرنا بھی ایک خاص فن ہے۔ایسی مجلسوں میں علمی