مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 106
106 میں ہاتھ ڈالے بیٹھے تھے کہ حضرت خلیفہ اول نے دیکھا۔میری تو آپ بہت عزت کیا کرتے تھے اس لئے مجھے تو کچھ نہ کہا لیکن اس کو اس قدر ڈانٹا کہ مجھے بھی سبق حاصل ہو گیا۔ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ ”تی اے نی میں تینوں کہاں نو ایس نی توں کن رکھ " یعنی بات تو میں اپنی لڑکی سے کہتی ہوں مگر بہو اسے غور سے سنے اسی طرح حضرت خلیفہ اول نے اسے ڈانٹا مگر مجھے سبق ہو گیا کہ یہ بری بات ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ نوجوانوں کو اسلامی آداب سکھانے کی طرف توجہ ہی نہیں کی جاتی۔نوجوان بے تکلفانہ ایک دوسرے کی گردن میں باہیں ڈالے پھر رہے ہوتے ہیں۔حتی کہ میرے سامنے بھی ایسا کرنے میں انہیں کوئی باک نہیں ہو تا کیونکہ ان کو یہ احساس ہی نہیں کہ یہ کوئی بری بات ہے۔ان کے ماں باپ اور اساتذہ نے ان کی اصلاح کی طرف کبھی کوئی توجہ ہی نہیں کی۔حالانکہ یہ چیزیں انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگوں کی بچپن میں تربیت کا اب تک مجھ پر اثر ہے اور جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ایک دفعہ میں ایک لڑکے کے کندھے پر کہنی ٹیک کر کھڑا تھا کہ ماسٹر قادر بخش صاحب نے جو مولوی عبد الرحیم صاحب درد کے والد تھے اس سے منع کیا اور کہا کہ یہ بہت بری بات ہے۔اس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی لیکن وہ نقشہ جب بھی میرے سامنے آتا ہے ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔اسی طرح ایک صوبیدار صاحب مراد آباد کے رہنے والے تھے۔ان کی ایک بات بھی مجھے یاد ہے۔ہماری والدہ چونکہ دلی کی ہیں اور دلی بلکہ لکھنو میں بھی تم کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔بزرگوں کو بے شک آپ کہتے ہیں لیکن ہماری والدہ کے بزرگ چونکہ یہاں تھے نہیں کہ ہم ان سے آپ کہہ کر کسی کو مخاطب کرنا بھی سیکھ سکتے۔اس لئے میں دس گیارہ سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تم ہی کہا کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے مدارج بلند کرے۔صوبیدار محمد ایوب خان صاحب مراد آباد کے رہنے والے تھے۔گورداسپور میں مقدمہ تھا اور میں نے بات کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تم کہہ دیا۔وہ صوبیدار صاحب مجھے الگ لے گئے اور کہا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند ہیں اور ہمارے لئے محل ادب ہیں لیکن یہ بات یادرکھیں کہ تم کا لفظ برابر والوں کے لئے بولا جاتا ہے ، بزرگوں کے لئے نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے اس کا استعمال میں بالکل برداشت نہیں کر سکتا۔یہ پہلا سبق تھا جو انہوں نے اس بارہ میں مجھے دیا۔پس بڑوں کا فرض ہے کہ چھوٹوں کو یہ آداب سکھا ئیں۔اگر ایک ہی شخص کے تو ان پر اثر نہیں ہو تا۔بچے سمجھتے ہیں یہ ضدی سا آدمی ہے یونہی ایسی باتیں کرتا رہتا ہے۔اگر باپ کے اور ماں نہ کہے تو سمجھتے ہیں باپ ظالم ہے۔اگر یہ اچھی بات ہوتی تو ماں کیوں نہ کہتی۔اگر ماں باپ کہیں اور استاد نہ کہے تو سمجھتے ہیں اگر یہ اچھی بات ہوتی تو استاد کیوں نہ کہتا اور اگر استاد بھی کے اور دوسرا کوئی نہ کے تو سمجھتے ہیں اگر یہ اچھی بات ہوتی تو کوئی دوسرا شخص کیوں نہ کہتا لیکن اگر ماں باپ بھی کہیں ، استاد بھی کہیں اور دوسرے لوگ بھی کہتے رہیں تو وہ بات ضرو ر دل میں راسخ ہو جاتی ہے۔