مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 95

95 علاج ان کے بس میں ہوتا ہے اور وہ اگر چاہیں تو آسانی سے ملیریا کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔یہی حال صفائی کا ہے۔ہمارے ملک کے لوگ گندگی اور غلاظت کو دور کرنے کا خیال تو نہیں کرتے مگر بیماری کے ذریعہ اپنے اوقات اور اپنے اموال اور اپنی صحت کی بربادی قبول کر لیتے ہیں۔ٹائیفائیڈ ہمیشہ اس گند اور پاخانہ کی وجہ سے پھیلتا ہے جو گلیوں میں جمع رہتا ہے اور جس میں ایسے مریضوں کے پاخانے بھی شامل ہوتے ہیں۔وہ پاخانہ پہلے تو گلیوں میں ہوتا ہے پھر جب بارش ہوتی ہے تو زمین میں جذب ہو جاتا ہے۔اور پھر کنوؤں کے پانی میں مل کر لوگوں کے پینے میں استعمال ہونے لگتا ہے اور اس طرح تمام شہر میں ٹائیفائیڈ پھیل جاتا ہے۔قادیان کی نئی آبادی نہایت کھلے مقامات میں ہے اور بڑے بڑے شہروں کی آبادی کے مقابلہ میں نہایت پر فضا اور صحت بخش ہے۔اور اگر ظاہری حالت کو دیکھا جائے تو یہاں کے لوگوں کی صحت بہت اعلیٰ ہونی چاہئے۔مگر واقعہ یہ ہے کہ یہاں ٹائیفائیڈ بڑی کثرت سے ہو تا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ پاخانہ اور گند جو گلیوں میں جمع ہوتا ہے بارش کے دنوں میں زمین کے اندر جذب ہو جاتا ہے اور پھر کنوؤں کے پانی میں مل کر لوگوں کو مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔پس ہم لوگ بلا وجہ قربانی کرتے ہیں اور بلا وجہ بیماریوں پر روپیہ ضائع کرتے اور پھر پچاس دنوں کا ضیاع بھی کرتے ہیں۔مگر وہ طریق اختیار نہیں کرتے جس میں خدا تعالیٰ کی بھی خوشنودی ہے اور اپنا فائدہ بھی ہے۔اگر خدام الاحمدیہ کے ممبران یہ کام کریں اور پوری تندہی اور محنت کے ساتھ اس طرف توجہ کریں تو میں سمجھتا ہوں ایک سال کے اندر ہی وہ قادیان میں ایسا الشان تغیر پیدا کر سکتے ہیں کہ جلسہ سالانہ پر آنے والے لوگ حیران ہو جائیں گے اور وہ کہیں کہ یہ قادیان پہلا قادیان نہیں اور پھر ایک سال کے بعد ہی وہ دیکھیں گے بیماریاں بھی مٹ گئی ہیں لوگوں کی صحتیں بھی درست ہو گئی ہیں اور ان کا روپیہ بھی بچ گیا ہے۔یوں تو بیماریاں دنیا میں رہتی ہی ہیں کیونکہ بعض کمزور طبع لوگ ہوتے ہیں جو امراض کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔لیکن کم سے کم لوگ ان بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جو وبائی صورت میں ایک مہلک رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔یہ میں نے ایک مثال دی ہے ورنہ اصل مضمون میں یہ بیان کر رہا تھا کہ سلسلہ کے ہر محکمہ کو کام ایک پروگرام کے ماتحت کرنا چاہئے۔تا ہر وقت وہ آنکھوں کے سامنے رہے اور اس کے پورا کرنے کا خیالی رہے۔ور نہ دن بہت نازک آرہے ہیں اور اگر اس وقت اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہ کی گئی تو پھر اصلاح کا وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔" (خطبه جمعه فرموده ۳ فروری ۱۹۳۹ء مطبوعہ ”الفضل ۱۷فروری ۱۹۳۹ء)