مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 94
94 کس قدر گندی ہیں۔پھر ان محلوں میں کئی گڑھے ہیں۔اونچی نیچی جگہیں ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو ان گڑھوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔جس کے نتیجہ میں نہ صرف ملیریا اور ٹائیفائیڈ پھیلتا ہے بلکہ بعض دفعہ انسانی جانیں بھی تلف ہو جاتی ہیں۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا ایک خطرناک حادثہ یہاں ہوا اور وہ یہ کہ حافظ غلام رسول صاحب و زیر آبادی کی آخری بیوی کا اکلوتا لڑ کا ایسے ہی ایک پانی سے بھرے ہوئے گڑھے میں گر کر ڈوب گیا۔یہ ہماری غفلتوں کا ہی نتیجہ ہے۔اگر ہم غفلت نہ کرتے اور گڑھوں کو اب تک پر کر دیتے تو یہ واقعہ کیوں ہو تا۔کہا جاتا ہے کہ جس زمین میں یہ واقعہ ہوا ہے اس میں ہندوؤں کا بھی دخل ہے۔لیکن اگر اس کے گرد دیوار ہی بنا دی جاتی تب بھی یہ واقعہ نہ ہوتا اور اس ایک واقعہ کے بعد اب یہ کب اطمینان ہو گیا ہے کہ آئندہ ایسا واقعہ کوئی نہیں ہو گا۔مگر اس دن تو جس نے یہ واقعہ سنا افسوس کر دیا لیکن دوسرے ہی دن اثر جاتا رہا اور یہ خیال بھی نہ رہا کہ ہمیں اس قسم کے گڑھوں کو پر کرنے کا فکر کرنا چاہئے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں اسی طرح پانی کی گندگی کی وجہ سے ہر سال ملیریا آتا ہے اور دس دس پندرہ پندرہ دن ایک شخص بیمار رہتا ہے۔ملیریا کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ گڑھوں میں پانی جمع رہتا ہے اور اس کی سڑانڈ کی وجہ سے مچھر پیدا ہو جاتے ہیں جو انسانوں کو کاٹتے اور ملیریا میں مبتلا کر دیتے ہیں۔اس بخار کی وجہ سے لوگ پندرہ پندرہ دن تک بیمار رہتے ہیں اور اگر دس دن بھی ایک شخص کے بیمار رہنے کی اوسط فرض کر لی جائے اور ایک گھر کے پانچ افراد ہوں تو سال میں ان کے پچاس دن محض ملیریا کی وجہ سے ضائع چلے جاتے ہیں۔حالانکہ اگر وہ چھ دن بھی کوشش کرتے تو ملیریا کو جڑھ سے نابود کر دیتے مگر لوگ دوائیوں پر پیسے الگ خرچ کرتے ہیں ، تکلیف الگ اٹھاتے ہیں، طاقتیں الگ ضائع کرتے ہیں ، عمرمیں الگ کم ہوتی ہیں ، موتیں الگ ہوتی ہیں اور پھر سال میں پچاس دن بھی ان کے ضائع چلے جاتے ہیں۔مگر تھوڑا سا وقت خرچ کر کے قبل از وقت ان باتوں کا علاج نہیں کرتے۔وہ کام جو میں بتا تا ہوں صفائی اور حفظان صحت کے لحاظ سے وقار عمل کے دور رس اثرات اگر دوست کرنے لگ جائیں تو ان کی صحتیں بھی درست رہیں گی۔ان کے پیسے بھی بچیں گے۔ان کے محلوں کی شکل و صورت بھی اچھی ہو جاۓ گی۔ان کا نیک اثر بھی لوگ قبول کریں گے اور ان کے پچاس دن بھی بچ جائیں گے۔گویا خدا بھی راضی ہو جائے گا۔لوگ بھی تعریف کریں گے اور خود بھی فائدہ اٹھائیں گے۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لوگ اس بات کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔وہ عدم صفائی کی وجہ سے جانی قربانیاں بھی کرتے ہیں۔اپنے بیوی بچوں کو بھی تکلیف میں ڈالتے ہیں اور اپنے روپیہ کو بھی برباد کرتے ہیں۔مگر اس آسان سادہ اور صحت بخش طریق کو اختیار کرنے کیلئے شوق سے تیار نہیں ہوتے۔حالانکہ ملیریا ایسا خطرناک اثر انسانی طبیعت پر چھوڑ جاتا ہے کہ وہ بچے جو ملیریا زدہ ہوتے ہیں ، جب بڑے ہوتے ہیں تو ان کے دل بالکل مردہ ہوتے ہیں ، ان کی امنگیں کو تاہ ہوتی ہیں اور ان کے خیالات نہایت پست ہوتے ہیں اور جوان ہونے سے پہلے ہی وہ بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں۔حالانکہ اس کا