مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 76
76 احمدیت کی ترقی کے ساتھ اسلام کی ترقی اور اسلام کی ترقی کے ساتھ دنیا کی ترقی وابستہ ہے اور احمدیت کی ترقی کے لئے دو کام کرنے نہایت ضروری ہیں۔ایک تعلیم و تربیت کا اور دوسرا تبلیغ واشاعت کا۔ان کے بغیر جماعت نہ پھیل سکتی ہے اور نہ اس کے پھیلنے کا کوئی فائدہ ہے۔یعنی تبلیغ کے بغیر جماعت کی ترقی نہیں ہو سکتی اور صحیح تربیت کے بغیر احمدیت کا پھیلنا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔فرض کر و احمدی ساری دنیا میں پھیل جائیں مگر مذ ہبی، سیاسی اقتصادی، تمدنی اور تعلیمی ماحول وہی رہے جو پہلے تھا تو ایسی احمدیت کے پھیلنے کا فائدہ کیا اور اگر احمد یوں میں وہ روح نہ ہو جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے اور ایک ظالم کی بجائے اگر دوسرا ظالم کھڑا ہو گیا تو اس سے بنی نوع انسان کو کیا فائدہ پہنچے گا۔پس تعلیم اور تربیت دو نہایت ہی اہم کام ہیں اور انہی دونوں کاموں کو تحریک جدید میں مد نظر رکھا گیا ہے۔تعلیم و تربیت کو مد نظر رکھتے ہوئے سادہ غذا سادہ لباس خود ہاتھ سے کام کرنا سینماکاترک، غریبوں کی امداد بور ڈنگ تحریک جدید اور ورثہ وغیرہ کا کام تجویز کئے گئے ہیں اور یہ تمام باتیں ایسی ہیں جن کو کسی وقت بھی ترک نہیں کیا جاسکتا۔بعض تو موجودہ صورت میں ہی قابل عمل رہیں گی اور انہیں کسی وقت میں بھی چھوڑا نہیں جاسکتا لیکن بعض میں حالات کے ماتحت کچھ تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔عملی طور پر بعض حصوں کے متعلق مجلس خدام الاحمدیہ جد و جہد کر رہی ہے اور جہاں تک اس کے ایک سال کے کام کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں اس نے نہایت شاندار کام کیا ہے اور اگر وہ اسی طرح استقلال سے کام جاری رکھے اور نہ صرف اپنے موجودہ معیار کو قائم رکھے بلکہ اسے بڑھاتی چلی جائے تو وہ ایک عمدہ نمونہ قائم کر سکتی ہے۔مجالس خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کو یادرکھنا چاہیئے کہ ان کے کام کے اثرات صرف موجودہ زمانہ کے لوگوں تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ اگر وہ اسی خوشدلی اور اخلاص کے ساتھ کام جاری رکھیں گے تو آئندہ نسلوں تک ان کے نیک اثرات جائیں گے اور جس طرح آج صحابہ کا ذکر آنے پر بے اختیار رضی اللہ عنھم دور ضواعنہ کا فقرہ زبان سے نکل جاتا ہے اسی طرح ان کا نام لے کر آئندہ آنے والی نسلوں کا دل خوشی سے بھر جائے گا اور وہ ان کی ترقی مدارج کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں گے۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ جس کام کو شروع کریں اسے استقلال سے کرتے چلے جائیں۔جو شخص بھی اسی جدو جہد میں کھڑا ہو گا وہ گر جائے گا اور سلامت وہی رہے گا جو اپنے قدم کی تیزی میں کمی نہیں آنے دے گا۔مجلس خدام الاحمدیہ تحریک جدید کی فوج ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس فوج میں داخل ہوں گے اور اپنی عملی جدوجہد سے ثابت کر دیں گے کہ انہوں نے اپنے فرائض کو سمجھا ہوا ہے۔( خطبه جمعه فرموده ۸ ۱نومبر ۱۹۳۸ء - مطبوعه اخبار الفضل ۲۴ نومبر ۱۹۳۸ء)