مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 806
806 ہوئی ہوں۔یعنی ایک طرف تو کچے مذہب کے پیرو اپنی کثرت تعداد کے لحاظ سے ساری دنیا میں پھیل جائیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ اس کے ماننے والوں کو اتنی برکت دے کہ آسمان تک اس کی شاخیں پہنچ جائیں یعنی ان کی دعائیں کثرت کے ساتھ قبول ہونے لگیں اور ان پر آسمانی انوار اور برکات کا نزول ہو۔یہی فرعـهـا فـی السماء کے معنے ہیں کہ جو شخص آسمان پر جائے گا وہ خدا تعالیٰ کے قریب ہو جائے گا اور چونکہ اللہ تعالی کا کوئی جسمانی وجود نہیں اس لئے اس کے قریب ہونے کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کی دعائیں سنے گا۔حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ مومن جب رات کو تہجد کے وقت دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کی قبولیت کے لئے آسمان سے اتر آتا ہے۔پس ضروری ہے کہ تمام جماعت کے اندر ایسا اخلاص پیدا ہو کہ اس کی دعائیں خدا تعالی سننے لگ جائے۔احمدی جماعت کا کوئی حصہ ایسا نہ ہو جس کی دعائیں خدا تعالیٰ کثرت کے ساتھ قبول نہ کرے۔پس تبلیغ بھی کرو اور دعائیں بھی کرو تا اللہ تعالٰی احمدیت کو غیر معمولی ترقی عطا کرے۔سکھوں کو دیکھو۔ان کا بانی نبی نہیں تھا مگر پھر بھی وہ بڑے پھیل گئے اور اب بھی ان میں اتنا جوش ہے کہ ذرا ذراسی بات پر لڑنے مرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔تمہارا بانی تو نبی تھا اور اپنی تمام شان میں مسیح موسوی سے بڑھ کر تھا۔پھر اگر مسیح موسوی کی امت تمام دنیا میں پھیل گئی ہے تو مسیح محمد ی جو ان سے بڑے تھے ان کی جماعت کیوں ساری دنیا میں نہیں پھیل سکتی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے متعلق یہ بھی فرمایا کہ اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا راور اور جالوت ہے میرا شکار اور جالوت اس شخص کو کہتے ہیں جو فسادی ہو اور امن عامہ کو برباد کرنے والا ہو۔پس اس کے یہ معنے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا میں امن قائم فرمائے گا اور ہر قسم کے فتنہ و فساد اور شرارت کا سد باب کر دے گا۔پس تبلیغ اسلام کو ہمیشہ جاری رکھو اور نظام خلافت سے اپنے آپ کو پورے اخلاص کے ساتھ وابستہ رکھو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الوصیت میں تحریر فرمایا ہے کہ " میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجو د ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔" اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی لکھا ہے کہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا بھی ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔" سو تم قیامت تک خلافت کے ساتھ وابستہ رہو تاکہ قیامت تک خدا تعالیٰ کے تم پر بڑے بڑے فضل نازل ہوں۔