مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 794
794 ۱۳ اکتوبر ۱۹۵۷ء کو سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ کے آخری روز حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خدام سے روح پرور خطاب فرمایا حضور کی یہ تقریر ابھی تک شائع نہیں ہو سکی۔اس تقریر کا جو خلاصه روزنامه افضل مورخه ۱۵ اکتوبر۱۹۵۷ء اور ۱۷ اکتوبر ۱۹۵۷ء کی اشاعتوں میں شائع ہوا ہے، وہ ذیل میں دیا جا رہا ہے۔تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے سورہ النزعات کی ابتدائی آیات تلاوت فرما ئیں اور پھر فرمایا میں نے النزعات کی جو آیات ابھی پڑھی ہیں، ان میں مومنوں کے فرائض بیان کئے گئے ہیں یوں تو منہ سے ہر کوئی اپنے آپ کو مومن کہتا ہے لیکن محض منہ سے اپنے آپ کو مومن کہنا کوئی مشکل نہیں۔کہنے کو تو مسیلمہ کذاب نے بھی اپنے آپ کو نبی کہا تھا اسی طرح اسود عنسی نے بھی اپنے آپ کو نبی کہا تھا لیکن کجا ان لوگوں کا اپنے آپ کو نبی کہنا اور کجا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ میں نبی ہوں، دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔جب ان لوگوں نے اپنے آپ کو نبی کہا تو اتنی حرکت بھی پیدا نہیں ہوئی جتنی پانی میں کنکری ڈالنے سے ہوتی ہے لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا اور نازعات والی قو میں آپ کے ساتھ شامل ہو گئیں تو یہ زمین ہل کر رہ گئی۔پہلے بدر کی جنگ ہوئی پھر احد کی جنگ ہوئی پھر صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا بال آخر مکہ فتح ہوا اور درمیان میں کئی اور جنگیں ہوئیں الغرض ایک تہلکہ سانچ گیا۔اس وقت یہ زمین ہلی ہی نہیں بلکہ ہلتی چلی گئی اور ایک طرح سے کانپ اٹھی۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا۔یہ زمانہ بھی ایسا ہی زمانہ ہے خدا جماعت احمدیہ کی ذمہ داری تعالٰی پھر اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کے سامان کر رہا ہے اور اس نے اسلام کی خدمت احمدیوں کے سپرد کیا ہے۔یہ جو قرآن میں آتا ہے کہ جب بار امانت زمین و آسمان کے سپرد کی اگیا تو انہوں نے بڑی گھبراہٹ کا اظہار کیا۔وہی امانت اس وقت آپ لوگوں کے سپرد کی گئی ہے۔جس طرح اس زمانے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والا شخص بروز محمد کہلایا ہے اسی طرح صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے یعنی آپ لوگ صحابہ کے بروز کہلائے ہیں۔آپ لوگوں پر جو بوجھ ڈالا گیا ہے بظا ہر حالات اس کو اٹھانا آپ کی طاقت سے بالا ہے البتہ خدا کی مدد اور اس کی نصرت شامل حال ہو تو پھر اس بوجھ کو اٹھانا مشکل نہیں ہے تاہم پھر اس بوجھ کے مقابلے میں آپ لوگوں کی ظاہری بساط کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ خطرہ آپ لوگوں کے ساتھ بھی ہے کہ کہیں آپ لوگ تبلیغ اسلام کا بوجھ کچھ عرصہ اٹھانے کے بعد ہمت نہ ہار دیں اور اس کام کو چھوڑ بیٹھیں۔آج تو آپ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے کہتے ہیں کہ آج دنیا کے مختلف ممالک میں ہم تبلیغ کر رہے ہیں اور مساجد تعمیر کرنے کی ہمیں توفیق مل رہی ہے لیکن اگر خدانخواستہ آپ ست ہو گئے اور آپ نے کہنا شروع