مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 783
783 کہ یہ مثال ان پر صادق آجاتی ہے جس طرح اس مولوی نے روپیہ دیکھ کر خلاف شریعت نکاح پر نکاح پڑھ دیا تھا انہوں نے بھی لالچ کی وجہ سے جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے مگر یہاں تو چڑیا چھوڑا نہیں کسی نے مردہ مچھر بھی نہیں دیا حالانکہ یہ اولاد اس عظیم الشان باپ کی ہے جو اس قدر حوصلہ کا مالک تھا کہ ایک دفعہ جب آپ قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ مجھے آپ کے متعلق الہام ہوا ہے کہ اگر آپ اپنے وطن گئے تو اپنی عزت کھو بیٹھیں گے۔اس پر آپ نے وطن واپس جانے کا نام تک نہ لیا۔اس وقت تک آپ اپنے وطن بھیرہ میں ایک شاندار مکان بنا رہے تھے۔جب میں بھیرہ گیا تو میں نے بھی یہ مکان دیکھا تھا۔اس میں آپ ایک شاندار ہال بنوا ر ہے تھے تاکہ اس میں بیٹھ کر درس دیں اور مطلب بھی کیا کریں۔موجودہ زمانہ کے لحاظ سے تو وہ مکان زیادہ حیثیت کا نہ تھا لیکن جس زمانہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے یہ قربانی کی تھی ،اس وقت جماعت کے پاس زیادہ مال نہیں تھا۔اس وقت اس جیسا مکان بنانا بھی ہر شخص کا کام نہیں تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے بعد آپ نے واپس جا کر اس مکان کو دیکھا تک نہیں۔بعض دوستوں نے کہا بھی کہ آپ ایک دفعہ جاکر مکان تو دیکھ آئیں لیکن آپ نے فرمایا کہ میں نے اسے خدا تعالی کے لئے چھوڑ دیا ہے۔اب اسے دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ایسے عظیم الشان باپ کی اولاد ایک مردہ مچھر سے بھی حقیر چیز پر اگری۔پھر دیکھو حضرت خلیفتہ المسیح الاول تو اس شان کے انسان تھے کہ وہ اپنا عظیم الشان مکان چھو ڑ کر قادیان آگئے لیکن آپ کے پوتے کہتے ہیں کہ قادیان میں ہمارے دادا کی بڑی جائیداد تھی جو ساری کی ساری مرزا صاحب کی اولاد نے سنبھال لی ہے حالانکہ جماعت کے لاکھوں آدمی قادیان میں جاتے رہے ہیں اور ہزاروں وہاں رہے ہیں۔اب بھی کئی لوگ قادیان گئے ہیں ، انہیں پتہ ہے کہ وہاں حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا صرف ایک کچا مکان تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی بڑی جائیداد تھی مگر وہ جائیداد مادی نہیں بلکہ روحانی تھی جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر احمدی کے دل میں آپ کا ادب واحترام پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجو داگر آپ کی اولاد خلافت کے مقابلہ میں کھڑی ہو گی تو ہر مخلص احمدی انہیں نفرت سے پرے پھینک دے گا اور ان کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کرے گا۔آخر میں خدام کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خلافت کی برکات کو یاد رکھیں اور کسی چیز کو یاد رکھنے کے لئے پرانی قوموں کا یہ دستور ہے کہ وہ سال میں اس کے لئے خاص طور پر ایک دن مناتی ہیں مثلا شیعوں کو دیکھ لو وہ سال میں ایک دفعہ تعزیہ نکال لیتے ہیں تا قوم کو شہادت حسین " کا واقعہ یاد رہے اسی طرح میں بھی خدام کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سال میں ایک دن خلافت ڈے کے طور پر منایا کریں۔اس میں وہ خلافت کے قیام پر خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں اور اپنی پرانی تاریخ کو دہرایا کریں۔پرانے اخبارات کا ملنا تو مشکل ہے لیکن الفضل نے پچھلے دنوں ساری تاریخ کو از سر نو بیان کر دیا ہے۔اس میں وہ گالیاں بھی آگئی ہیں جو پیغامی