مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 775
775 کہ میں یہ روپیہ تو لے لیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ میں یہ روپیہ سلسلہ کے کاموں پر ہی صرف کروں گا چنانچہ میں نے وہ روپیہ تو لے لیا لیکن میں نے اسے اپنی ذات پر نہیں بلکہ سلسلہ کے کاموں پر خرچ کیا اور صد رانجمن احمد یہ کو دے دیا۔اب میں نے ہیمبرگ کی مسجد کے لئے تحریک کی ہے کہ جماعت کے دوست اس کے لئے ڈیڑھ ڈیڑھ سو روپیہ دیں لیکن اگر اللہ تعالی ہمیں مال دے تو ہمارے سلسلہ میں تو یہ ہونا چاہئے کہ ہمارا ایک ایک آدمی ایک ایک مسجد بنادے۔خود مجھے خیال آتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ مجھے کشائش عطا فرمائے تو میں بھی اپنی طرف سے ایک مسجد بنادوں اور کوئی تعجب نہیں کہ خدا تعالیٰ مجھے اپنی زندگی میں ہی اس بات کی توفیق دے دے اور میں کسی نہ کسی یورپین ملک میں اپنی طرف سے ایک مسجد بنادوں۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دینے پر منحصر ہے۔انسان کی اپنی کوشش سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ہم لوگ زمیندار ہیں اور ہمارے ملک میں زمیندارہ کی بہت ناقدری ہے یعنی یہاں لائلپور اور سرگودھا کے اضلاع کی زمینوں میں بڑی سے بڑی آمدن ایک سو روپیہ فی ایکڑ ہے حالانکہ یورپین ممالک میں فی ایکٹر آمد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔میں جب یورپ گیا تو میں نے وہاں زمینوں کی آمد تیں پوچھنی شروع کیں تو مجھے معلوم ہوا کہ اٹلی میں فی ایکٹر چار سو روپیہ ہے اور ہالینڈ میں فی ایکٹر آمد تین ہزار روپیہ ہے۔پھر میں نے میاں محمد ممتاز صاحب دولتانہ کا بیان پڑھا۔وہ جاپان گئے تھے اور وہاں انہوں نے زمین کی آمدنوں کا جائزہ لیا تھا۔انہوں نے بیان کیا تھا کہ جاپان میں فی ایکڑ آمد چھ ہزار روپے ہے۔اس کے یہ معنے ہوئے کہ اگر میری ایک سو ایکٹر زمین بھی ہو حالانکہ وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور اس سے ہالینڈ والی آمد ہو تو تین لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہو جاتی ہے اور اگر جاپان والی آمد ہو تو بڑی آسانی کے ساتھ ایک نہیں کئی مساجد میں اکیلا تعمیر کر سکتا ہوں۔میرا یہ طریق ہے کہ میں اپنی ذات پر زیادہ روپیہ خرچ نہیں کرتا اور نہ اپنے خاندان پر خرچ کرتا ہوں بلکہ جو کچھ میرے پاس آتا ہے اس میں سے کچھ رقم اپنے معمولی اخراجات کے لئے رکھنے کے بعد سلسلہ کے لئے دے دیتا ہوں۔خرچ کرنے کو تو لوگ دس دس کروڑ روپیہ بھی کر لیتے ہیں لیکن مجھے جب بھی خدا تعالیٰ نے دیا ہے ، میں نے وہ خدا تعالی کے رستے میں ہی دے دیا ہے۔بے شک میرے بیوی بچے مانگتے رہیں، میں انہیں نہیں دیتا۔میں انہیں کہتا ہوں کہ تمہیں وہی گزارے دوں گا جن سے تمہارے معمولی اخراجات چل سکیں۔زمانہ کے حالات کے مطابق میں بعض اوقات انہیں زیادہ بھی دے دیتا ہوں مثلاً اگر وہ ثابت کر دیں کہ اس وقت گھی مہنگا ہو گیا ہے ایندھن کی قیمت چڑھ گئی ہے یا دھوبی وغیرہ کا خرچ بڑھ گیا ہے تو میں اس کے لحاظ سے زیادہ بھی دے دیتا ہوں لیکن اس طرح نہیں کہ ساری کی ساری آمدن ان کے حوالہ کردوں کہ جہاں جی چاہیں خرچ کرلیں۔غرض میں گھر کے معمولی گزارہ کے لئے اخراجات رکھنے کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ سلسلہ کو دے دیتا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور کسی وقت وہ ہمارے ملک والوں کو عقل اور سمجھ دے دے اور ہماری آمد میں بڑھ جائیں تو سال میں ایک مسجد چھوڑ دو دو مسجدیں بھی ہم بنوا سکتے ہیں اور یہ سب خلافت ہی کی برکت ہے۔میں جب نیا نیا خلیفہ ہوا تو مجھے الہام ہوا کہ ”مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت۔تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل