مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 68

68۔۔دوسری ضروری چیز مجالس خدام الاحمدیہ کا قیام اور اس میں شمولیت ہے۔میں نے اس بارہ میں بھی ابھی تک کوئی پابندی نہیں لگائی لیکن اگر کوئی باہر رہ جاتا ہے اور خدام الاحمدیہ میں شامل نہیں ہو تا تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ہمیں نوجوانوں کو ایسے رنگ میں سمجھانا چاہئے کہ کوئی نوجوان اس میں شامل ہونے سے نہ رہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ جو بڑے کام ہوتے ہیں ان کی تکمیل کے لئے ایک لمبے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ عظیم الشان انعامات جن کے مانگنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے، وہ بغیر بڑی قربانیوں کے نہیں مل سکتے۔یہ بھی ایک غلطی تھی جس نے مسلمانوں کو تباہ کیا کہ انہوں نے سمجھ لیا صحابہ پر تمام ترقی ختم ہو گئی ہے۔حالانکہ اگر یہ صحیح ہو تو پھر ہمیں کیا ملے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اس عقیدہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچا ہے۔خدا تعالیٰ نے تو قرآن کریم میں اهدنا الصراط المُقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ العمت عليهم کہہ کر یہ دعا سکھائی ہے کہ تم بڑے سے اَنْعَمْتَ بڑے انعام طلب کرو۔پس جب دعا سکھانے والے نے محل سے کام نہیں لیا' دینے والے کے ہاں کمی نہیں تو مانگنے والا کیوں مایوس ہو۔صحابہ کے زمانہ میں اور اس کے بعد بھی جب تک لوگ اس بات کو سمجھتے رہے ان کو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے رتبے دیئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے دعوئی بھی کئے۔لیکن جب ان کے دماغ چھوٹی چھوٹی باتوں پر راضی رہنے لگ گئے تو وہ تنزل میں گر گئے۔ہمیں مسلمانوں کے اس تنزل سے سبق حاصل کرنا چاہنے اور خدا تعالیٰ سے اس کی بڑی سے بڑی نعمت طلب کرنی چاہئے۔ہاں روحانی نعمتوں کو معین طور پر مانگنانا دانی ہو تا ہے۔طبیب کو ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بہتر سے بہتر نسخہ دے مگر یہ کہنا کہ معجون فلاسفہ دو یا ایسٹرن سیرپ دو بیوقوفی ہے۔خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مانگنے والے کے لئے کونسی روحانی نعمت بہتر ہو گی۔مثلاً ایک شخص فضلوں کی توفیق اور اس کے ذریعہ قرب الہی مانگتا ہے حالانکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے لئے روزوں سے ترقی مقدر ہو۔پس روحانی انعامات کو معین طور پر مانگنا قرب الہی کے دروازہ کو اپنے اوپر بند کرنا ہے۔ہاں جسمانی طور پر اولاد و غیرہ کے لئے کسی معین نعمت کا طلب کرنا منع نہیں لیکن روحانی لحاظ سے ہمیں اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات طلب کرنے چاہئیں اور اس امر کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ کو نسا انعام ہمیں دیتا ہے کیونکہ وہی اس امر کو بہتر سمجھ سکتا ہے کہ ہمارے قومی اور ہماری دماغی بناوٹ کے مناسب حال کو نسا روحانی انعام ہے۔غرض نسلوں کو درست رکھنا اعلیٰ مقاصد کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے مگر اس کے لئے ایک نظام کی ضرورت ہے اور اس نظام کو قائم کرنے کے لئے مختلف تحریکات ہوتی رہتی ہیں۔وہ لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کہ یہ نئی چیزیں ہیں وہ غلطی پر ہیں اگر حالات کے مطابق ہم تبدیلی اختیار نہیں کریں گے تو عقلمندی سے بعید ہو گا جیسے اگر کوئی شخص موٹر کو تعیش کی چیز سمجھ کر اس سے کام نہ لے باریل کے ہوتے ہوئے پیدل سفر کرنے پر اصرار کرے تو یہ اس کی نادانی ہو گی۔پس ضروری ہے کہ انعامات کے حصول کے لئے مقررہ نظام کے ماتحت سب دوست مل کر کام کریں۔