مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 736
736 مندرجہ ذیل تقریر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مجلس انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالان: اجتماع ۱۹۵۵ء کے موقع پر فرمائی تھی۔(مرتب) " آج انصار اللہ کی پہلی میٹنگ ہے۔انصار کس جذبہ اور قربانی سے کام کرتے ہیں، یہ تو آئندہ سال ہی بتائیں گے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت کی دماغی نمائندگی انصار اللہ کرتے ہیں اور اس کے دل اور ہاتھوں کی نمائندگی خدام الاحمدیہ کرتے ہیں۔جب کسی قوم کے دماغ ، دل اور ہاتھ مضبوط ہوں تو وہ قوم بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔پس میں پہلے تو انصار اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے بہت سے وہ ہیں جو یا ( رفیق) ہیں یا کسی (رفیق) کے بیٹے ہیں یا کسی (رفیق) کے شاگرد ہیں اس لئے جماعت میں نمازوں دعاؤں اور تعلق باللہ کو قائم رکھنا ان کا کام ہے۔ان کو تہجد ذکر الہی اور مساجد کی آبادی میں اتنا حصہ لینا چاہئے کہ نوجوان ان کو دیکھ کر خود ہی ان باتوں کی طرف مائل ہو جائیں۔اصل میں تو جوانی کی عمر ہی وہ زمانہ ہے جس میں تہجد دعا اور ذکر الہی کی طاقت بھی ہوتی ہے اور مزہ بھی ہوتا ہے لیکن عام طور پر جوانی کے زمانہ میں موت اور عاقبت کا خیال کم ہوتا ہے۔اس وجہ سے نوجوان غافل ہو جاتے ہیں لیکن اگر نوجوانی میں کسی کو یہ توفیق مل جائے تو وہ بہت ہی مبارک وجود ہو تا ہے۔پس ایک طرف تو میں انصار اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے نمونہ سے اپنے بچوں ، اپنے ہمسایہ کے بچوں اور اپنے دوستوں کے بچوں کو زندہ کریں اور دوسری طرف خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اتنا اعلیٰ درجہ کا نمونہ قائم کریں کہ نسلا بعد نسل اسلام کی روح زندہ رہے۔اسلام اپنی ذات میں تو کامل مذہب ہے لیکن اعلیٰ سے اعلیٰ شربت کے لئے بھی کسی گلاس کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح اسلام کی روح کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے کسی گلاس کی ضرورت ہے اور ہمارے خدام الاحمدیہ وہ گلاس ہیں جن میں اسلام کی روح کو قائم رکھا جائے گا اور ان کے ذریعہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے گا۔دیکھو آخر ہم بھی انسان ہیں اور یہودی بھی انسان ہیں۔ہمارا دین ان کے دین سے بہتر ہے اور ہمارا رسوں ان کے رسول سے افضل ہے مگر یہودیوں کو فلسطین سے نکال دیا گیا تو وہ اسے دو ہزار سال تک نہیں بھولے بلکہ اتنے لمبے عرصہ تک انہیں یہ یاد رہا کہ انہوں نے فلسطین میں دوبارہ یہودی اثر کو قائم کرنا ہے اور آخر وہ دن