مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 731
731 شادی شدہ جوڑا جو ہنستا ہوا آ رہا تھا، وہ میرے آگے کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ہماری خاطر ایک دفعہ مسکرا دو۔کہنے لگا کہ میں جو مسکرایا تو پھر مسکرانے لگا۔مجھے اپنا وطن بھول ہی گیا اور میں مسکرا تا ہی رہا۔تم بھی خدا اور اس کے رسول کی خاطر مسکراؤ۔اپنے چہرے پر رونے کو کبھی نہ آنے دو اور مسکراتے چلے جاؤ تاکہ ساری دنیا تمہاری وجہ سے مسکراتی چلی جائے مگر ایسا مسکراؤ کہ اس کے ساتھ شیطان نہ مسکرائے خدا مسکرائے۔ایک مسکراہٹ ایسی ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ سے غافل کر دیتی ہے۔اس کے ساتھ شیطان مسکراتا ہے اور ایک مسکراہٹ وہ ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ خدا بھی مسکراتا ہے۔پھر جس شخص نے یہ کہا کہ غربت آگئی ہے، طوفان آئے ہیں ، اس نے بھی غلطی کی۔صحابہ میں دیکھو ایک صحابی عمرہ کے موقعہ پر اکڑ اکڑ کر طواف کر رہا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اس کو بلایا اور فرمایا اکثر نا خدا کو بڑا نا پسند ہے لیکن تمہارے اکڑنے پر خدا بڑا خوش ہوا ہے۔تم کیوں اکڑتے تھے۔کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں اس لئے اکڑا تھا کہ ملیریا کی وجہ سے سب کی کمریں ٹیڑھی ہو گئی تھیں۔میں نے کہا کا فر ہمارا طواف دیکھ رہے ہیں کہیں وہ ہماری ٹیڑھی کمریں دیکھ کر خوش نہ ہو جائیں کہ مسلمانوں کی کمریں ٹوٹ گئی ہیں اس لئے میں اکڑ اکڑ کر چلتا تھا کہ ان کو بتاؤں کہ ہم خدا کے فضل سے بیماریوں سے ڈرنے والے نہیں۔ہم اکٹر کر چلیں گے۔آپ نے فرمایا خدا کو تمہاری یہ ادا بڑی پسند آئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک پر آفت آئے تو مومن سے زیادہ اور کون غمگین ہو گا مگر اپنے غم کا تحفہ رات کے وقت خدا کے آگے نذر کے طور پر پیش کرو اور اپنی مسکراہٹیں دن کے وقت خدا اور اس کے رسول کے آگے پیش کرو تاکہ دشمن یہ نہ سمجھے کہ ان طوفانوں نے تمہاری کمریں تو ڑ ڈالی ہیں۔یاد رکھو خدا نے اس زمین میں کمائی کی بڑی قابلیتیں رکھی ہیں۔میں نے بار ہا زمینداروں کو کہا ہے کہ ہمارا ایک وفد جاپان گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ چھ ہزار روپیہ فی ایکڑ جاپانی کما رہے ہیں۔میں نے اٹلی سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ چودہ سو روپیہ فی ایکڑ اٹلی والے کما رہے ہیں۔میں نے ہالینڈ میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ تین ہزار روپیہ فی ایکٹر ہالینڈ والے کما رہے ہیں۔ہمارے ملک کی اوسط زمین دو تین ایکڑ فی شخص بنتی ہے۔تین ہزار فی ایکٹر کے لحاظ سے چھ ہزار کی آمدن یعنی پانچ سو روپیہ ایک مہینہ کی آمد بنتی ہے۔گویا ای۔اے۔سی کے برابر تنخواہ ہو جاتی ہے۔ضرورت یہ ہے کہ ہمارے آدمی محنت کریں تاکہ اللہ تعالی ان کی زمین میں سے سونا اگلوائے۔تاجر دیانت سے کام کریں کہ دنیا میں ہیں میل سے ان سے سودا لینے آئے۔نوکر ایسی دیانت سے کام کریں کہ افسر کے میں نے رکھنا ہے تو احمدی رکھنا ہے۔یہ بڑے دیانت دار ہوتے ہیں۔غرض اچھے سے اچھے کام کرو۔زیادہ سے زیادہ محنت کرو اور خواہ وہ زمیندارہ ہو ، تجارت ہو ، ملازمت ہو اپنے اعلیٰ نمونے پیش کرو اور جب خدمت خلق کا وقت آئے تو سب سے بڑھ کر خدمت خلق کرو۔دیکھو عذاب تو عذاب ہی ہوتے ہیں۔اللہ تعالٰی سے دعائیں کرو کہ خدا تعالٰی ہمارے ملک کو عذابوں سے