مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 728 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 728

728 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے پندرہویں سالانہ اجتماع میں ۲۰ نومبر ۱۹۵۵۔کو نوجوانان جماعت سے خطاب کرتے ہوئے انہیں خدمت خلق اللہ تعالیٰ پر توکل اور دعاؤں سے کام لینے کی خاص طور پر نصیحت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ آئندہ تمہارا ایک نعرہ انسانیت زندہ باد ہونا چاہئے۔حضور کی یہ مفصل تقریر ذیل میں درج کی جارہی ہے۔(مرتب) کل چونکہ پہلی دفعہ انصار اور خدام کا اکٹھا جلسہ سالانہ تھا اس لئے ملاقات کے وقت میں کچھ گڑ بڑ ہو گئی تھی۔صحیح طور پر نہ انصار میں انتظام ہو سکا اور نہ خدام میں ہوا۔اس لئے میں نے چاہا کہ آج میں پھر خدام میں آؤں اور یہ بھی مناسب سمجھا کہ کچھ الفاظ بھی کہہ دوں۔احباب کو علم ہے کہ اس سال کے شروع میں مجھ پر ایک نہایت ہی خطرناک بیماری کا حملہ ہوا تھا اور اب تک اس بیماری کے آثار چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے دماغ کو اتنا صدمہ پہنچا ہوا ہے کہ میں بڑی جلدی تھک جاتا ہوں۔دو منٹ بھی بات کروں تو دماغ میں کوفت محسوس ہوتی ہے۔یوں تو عقید تا دعا پر ہمارا ایمان ہے ہی مگر واقعاتی طور پر بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی جماعت کے بعض دوستوں نے خاص طور پر دعائیں کی ہیں اس دن سے میری طبیعت اچھی ہو گئی ہے۔اس جلسہ کے ایام میں انصار خصوصیت کے ساتھ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کرتے رہے جس کے نتیجہ میں کل کی کوفت کے باوجود آج صبح میں نے اپنی طبیعت بہت ہی خوش محسوس کی اور میری آواز بھی اونچی نکلتی رہی۔ملاقاتیں بھی میں نے کیس اور کام کی ایسی طاقت مجھے اپنے اندر معلوم ہوتی تھی کہ میں عام دستور سے زیادہ کام کرنے کی توفیق پاتا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ جب بھی بیماری کے صدمہ کا اثر دماغ سے زائل ہوتا ہے ، طبیعت میں سکون پیدا ہو جاتا ہے اور یہی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ آپ کے دماغ سے اس اثر کا زائل کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہو تا۔تو گو ایسی تندرستی تو نہیں ہوتی جیسے بیماری کے حملہ سے پہلے تھی مگر اس وقت یہ ضرور محسوس ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیماری کا ایسا تصرف جسم پر نہیں ہے جیسا کہ وہ بعض وقت محسوس ہوتا ہے۔آج جو انصار اللہ کی رپورٹ میرے پاس آئی اس میں لکھا تھا کہ کسی دوست نے ایک سوال کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ سب سے اعلیٰ مقام تو کل کا مقام ہے۔وہاں