مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 723 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 723

723 تو اس نے کہا میں قصور وار ہوں ، میں سزا لوں گا۔اس روح کے پیدا ہو جانے کے نتیجہ میں قوم ترقی کرتی ہے کیونکہ ہر ایک شخص یہ خیال کرے گا کہ اگر اس نے کوئی غلطی کی تو ساری قوم کے گی تم مجرم ہو ، تم قصور وار ہو۔اس کا باپ اس کا بیٹا اس کا بھائی غرض اس کے سب رشتہ دار بھی اسے قصور وار سمجھیں گے۔ایک ناول نویس نے فرانس کا ایک قصہ بیان کیا ہے۔اس کے متعلق عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تاریخی واقعات کو اپناتا ہے۔فرانس کے بور بن خاندان کو جب ملک سے نکالا گیا تو وہ انگلستان چلا گیا اور لنڈن جاکر بادشاہ نے کوشش کی کہ کسی طرح ملک میں بغاوت پھیلائی جائے۔اس وقت فرانس میں جمہوریت نہیں تھی، طوائف الملو کی پائی جاتی تھی۔غالبا اس وقت تک نپولین بر سر اقتدار نہیں آیا تھا یا اس کے قریب زمانہ کا یہ واقعہ ہے۔بادشاہ نے لنڈن سے ایک جہاز میں بعض آدمی فرانس بھیجے کہ وہ فرانس میں جا کر بغاوت پھیلائیں۔جہاز کے نچلے حصے میں ہتھیار بھی رکھے ہوئے ہوتے تھے۔تو ہیں زنجیر کے ساتھ بندھی ہوئی تھیں۔ایک شخص صفائی کے لئے وہاں گیا تو اس سے ایک زنجیر کھل گئی اور توپ جہاز کے اندر لڑھکنے لگی اور خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہیں جہاز ٹوٹ نہ جائے۔بادشاہ کا نمائندہ بھی وہاں تھا۔یہ حالت دیکھ کر اس شخص نے جس سے کنڈا کھلا تھا چھلانگ لگادی اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر کنڈا لگانے میں کامیاب ہو گیا۔اس پر بادشاہ کے نمائندہ نے سب لوگوں کو اکٹھا کیا اور کہا اس شخص نے بہت بڑی بہادری کا کام کیا ہے اور ایک تمغہ جو فرانس میں سب سے زیادہ عزت والا سمجھا جاتا ہے“ دے کر کہا میں بادشاہ کی طرف سے یہ تمغہ بہادری کے صلہ میں اس کے سینہ پر لگاتا ہوں۔اس کے بعد اس نے کمانڈر کو حکم دیا کہ اسے لے جاؤ اور گولی مار دو۔اتفاقاً جہاں اترنا تھا وہاں سمندر میں سخت طوفان آیا ہوا تھا اور خطرہ تھا کہ کہیں جہاز غرق نہ ہو جائے۔اس وقت جہاز کے کمانڈر نے کہا کہ اس وقت مجھے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو یقینی موت کو قبول کرلے چنانچہ ایک ملاح آگے آیا۔اس نے اسے حکم دیا کہ اس شخص کو کشتی میں بٹھا کر ساحل فرانس تک پہنچادو۔طوفان زوروں پر تھا لیکن وہ ملاح کامیابی کے ساتھ ساحل فرانس پہنچ گئے اور وہاں پہنچ کر ملاح نے پستول نکال لیا اور کہا میں نے اپنی جان کو صرف اس لئے خطرہ میں ڈالا تھا کہ تم سے اپنے بھائی کا بدلہ لوں۔مسافر نے کہا تم نے حقیقت پر غور نہیں کیا۔تمہارے بھائی نے ایک نیک کام کیا تھا اور ایک برا کام کیا تھا۔میں نے اس کے اچھے کام کا اچھا بدلہ دیا اور فرانس کا سب سے بڑا تمغہ اسے لگایا اور اس کے برے کام کے بدلہ میں اسے گولی سے مار دینے کا حکم دیا۔تم جانتے ہو کہ میں بادشاہ کے مفاد کی خاطر یہاں آیا ہوں اور اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ میں ہر طرح کی احتیاط سے کام لوں اور اس کے رستہ میں حائل ہونے والی کسی روک کی پرواہ نہ کروں۔اس نے ایک برا کام کیا تھا اور میری بادشاہ سے وفاداری کا تقاضا یہی تھا کہ میں اسے ہلاک کردوں۔اس پر اس ملاح نے ہتھیار پھینک دیا اور کہا میں سمجھ گیا ہوں۔میرا بھائی قصور وار تھا اور اپنے اس جرم کے بدلہ میں موت کی سزا کا مستحق تھا۔تم ان لوگوں کی تاریخ میں ادب میں ناولوں میں کہانیوں میں ، قصوں میں اور علم و اخلاق کی کتابوں میں دیکھ لو یہی مضمون ملے گا کہ جب بھی کوئی شخص غلطی کرتا ہے وہ اپنی غلطی کی سزا لیتا