مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 614

614 سال میں ایک دفعہ کھاتے ہیں اور میں نے اس درخت کا پھل چند منٹوں میں دو دفعہ کھالیا۔بادشاہ نے کہا " زہ" اور خزانچی نے تین ہزار دینار کی ایک اور تھیلی اس بوڑھے کے سامنے رکھ دی۔پھر بادشاہ نے خزانچی سے کہا۔یہاں سے جلدی چلو ورنہ یہ بوڑھا تو ہمار ا سارا خزانہ لوٹ لے گا۔دنیا میں یہی طریق ہوتا ہے کہ اگلا شخص نیچے کی طرف حرکت کرتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہو تا۔نوجوان جو نکوں کی طرح والدین سے چھٹے رہتے ہیں۔انہیں یہ احساس ہی نہیں ہو تاکہ وہ خود کمائیں اپنے والدین کو کھلائیں اور اپنی اگلی نسل کا خیال رکھیں۔اس کے بالمقابل یورپ کے لوگ پند رہ پند رہ سولہ سولہ سال کی عمر میں اپنی زندگیاں بدل لیتے ہیں۔ایک دفعہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے سنایا کہ میں امریکہ گیا۔ان دنوں صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی (مرحوم) وہاں تھے۔انہوں نے ایک لڑکے کو میرے ساتھ لگا دیا کہ وہ میرے ساتھ ساتھ رہے۔اس لڑکے کی عمر تیرہ چودہ سال کی تھی۔ایک دن جب میں سیر کے لئے باہر گیا تو میں نے اس لڑکے سے اس کے والد کا نام پوچھا۔اس نے ایک بڑے بنکر (Banker) کا نام لیا جو بہت مالدار تھا۔تعلیم کے متعلق میں پہلے پوچھ چکا تھا کہ وہ مڈل یا انٹرنس جو وہاں کی ابتدائی تعلیم ہوتی ہے، پاس ہے۔میں نے اس لڑکے سے کہا۔تمہارا باپ بہت امیر ہے ، تم کالج میں کیوں تعلیم حاصل نہیں کرتے۔جب سامان میسر ہیں تو تم نے اپنی تعلیم بیچ میں کیوں چھوڑ دی۔وہ لڑکا غصہ سے کہنے لگا۔میں اتنا بے غیرت نہیں کہ اپنے ماں باپ سے خرچ لے کر مزید تعلیم حاصل کروں۔میرا والد مزید تعلیم کے لئے مجھے اخراجات دیتا تھا لیکن میں نے کہا میں نے پڑھنا ہو گا تو خود محنت کر کے پڑھوں گا۔باپ کا احسان نہیں اٹھاؤں گا۔لیکن ہمارے ملک میں لڑکے کئی سال تک فیل ہوتے چلے جاتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہو تاکہ ہم اپنے والدین پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔فیل ہونے پر وہ کہہ دیتے ہیں ہم نے تو بڑی محنت کی تھی اور اپنی کلاس میں ہو شیار تھے لیکن اس استاد کی جوتی کو ایک دفعہ ہم نے ٹیڑھی نظر سے دیکھ لیا تھا اس لئے استاد کی ہم سے دشمنی ہو گئی اور اس نے ہمیں فیل کر دیا۔ایک دفعہ ایک احمدی دوست نے مجھے خط لکھا کہ میرا لڑ کا قادیان میں پڑھتا ہے۔عربی میں وہ اچھا ہو شیار تھا لیکن استاد نے اسے فیل کر دیا ہے۔اگر وہ کمزور ہو تاتو مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن وہ عربی میں اچھا ہو شیار تھا مگر استاد نے پھر بھی اسے فیل کر دیا۔یہ بڑے ظلم کی بات ہے اور پھر اس قسم کی حرکتیں قادیان میں کی جاتی ہیں۔آپ اس طرف توجہ کریں۔میں نے لڑکے کے پرچے منگوائے تو یہ دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ اس نے پچاس یا سو نمبروں میں سے صرف دو یا اڑھائی نمبر حاصل کئے تھے اور یہ نمبر بھی استاد کے رحم و کرم کی وجہ سے اس نے حاصل کر لیے تھے ورنہ میرے نزدیک وہ صفر کا مستحق تھا۔میں نے اس دوست کو لکھا افسوس ہے کہ آپ نے اس بارہ میں تقوی سے کام نہیں لیا۔آپ کہتے ہیں میرا لڑکا اچھا ہو شیار تھا۔میں نے اس کے پرچے منگوائے ہیں اور خود دیکھے ہیں اس کو زیرو (0) ملنا چاہیے تھا لیکن پتہ نہیں کہ استاد کے اس کے ساتھ کیسے تعلقات تھے کہ اس نے اسے دویا اڑھائی نمبر دے دیئے۔