مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 572
572 پیدا کرتی ہے۔جس طرح بیلنا ہو مگر اس میں گنا نہ ڈالا جائے تو بیلنے کو حرکت دینے سے اس نہیں ٹپکتی۔اس طرح اگر صرف عقیدہ ہی عقیدہ ہو قوت محرکہ نہ ہو تو اس سے انسان کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔جس طرح بلینے کو جب تک حرکت نہ دی جائے اور اس میں گنا نہ ڈالا جائے انسان رس حاصل نہیں کر سکتا۔رس نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ بیلنا میں گنے ڈالے اور پھر اسے حرکت دے اسی طرح جب کوئی مقصد معین ہو تا ہے اور پھر انسان کے اندر ایک جوش ہو تا ہے کہ اسے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے کچھ کرنا چاہئے اور پھر انسان وہ کام کرنے لگ جائے تو اس کو عمل کہتے ہیں۔عمل کے بغیر بھی انسان صحیح نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔میں نے بتایا ہے کہ خالی بیلنا حرکت کر تار ہے اس میں گنا نہ ڈالا جائے تو رس حاصل نہیں ہو سکتا اسی طرح عقیدہ ہو لیکن قوت محرکہ صحیح طور پر کام نہ کرے تو ایمان بے کار ہے ، اسی طرح اگر عمل ہو ایمان نہ ہو تو وہ عمل بھی بے کار ہے۔اس کا کوئی مفید نتیجہ حاصل نہیں ہو گا۔یورپ والے کتنا عمل کر رہے ہیں لیکن چونکہ وہ عمل ایمان کے تابع نہیں اس لئے وہ روحانیت سے دور ہیں۔در اصل عمل ایمان کا لباس ہے اور ایمان مخفی چیز ہے۔جب ہم لباس کو دیکھتے ہیں تو اس سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی آدمی ہے۔فرض کرو دور سے کوئی آدمی آ رہا ہے۔ہم اس کے کپڑے دیکھتے ہیں تو ان کپڑوں سے سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کوئی آدمی ہے۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ محض کپڑے ہی ہوتے ہیں کوئی آدمی وہاں نہیں ہو تا۔جیسے کوئی کپڑے دھو کر سکھانے کے لئے دیوار یا کسی درخت پر لٹکا دے۔لیکن عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ جب کپڑے نظر آئیں تو اس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی آدمی ہے۔اگر کوئی قمیص ہل رہی ہے اور ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے کہ دیکھو وہ کوئی آدمی آرہا ہے تو وہ اسے جھٹلائے گا نہیں۔یہ نہیں کہے گا کہ تم جھوٹ کہتے ہو۔دس لاکھ میں سے نو لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے حالات میں وہ آدمی ہو تا ہے خالی قمیص نہیں ہوتی لیکن کبھی کبھی خالی قمیص بھی لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور یہ استثنائی چیز ہے۔ورنہ عام حالات میں قمیص اور آدمی دونوں اکٹھے ہوں گے۔اسی طرح جب عمل نہیں ہو گا ہم ایمان کو نہیں مانیں گے اور عمل ایمان کے بغیر پیدا نہیں ہو تا۔عمل گواہی دیتا ہے ایمان پر اور ایمان پیدا کرتا ہے عمل کو۔تیسری چیز جو احمدیت میں داخل ہونے والے کے لئے اپنے اندر پیدا کرنا ضروری ہے وہ راست بازی ہے۔یہ خلق بھی کام کے لئے ایک اصولی خلق ہے۔راستبازی اپنی ذات میں ایک طبعی چیز ہے۔مثلاً کوئی شخص آپ کے سامنے بوٹ رکھے اور کہے کہ یہ کیا ہے تو آپ کہیں گے یہ بوٹ ہے اور اگر وہ شخص یہ کہے کہ تم اسے بوٹ نہ کہو تو تم کہو گے اور کیا کہوں یہ ہے ہی بوٹ۔غرض راستبازی ایک طبعی چیز ہے اور انسان مجبور ہوتا ہے کہ وہ سچ کہے لیکن جب مصلحتا وہ اسے بدلنا چاہتا ہے تو وہ ایک غیر طبعی چیز بن جاتی ہے۔۔راستبازی مذہبی چیز نہیں۔راستبازی انسان کا طبعی حصہ ہے۔جب تم سچ بولنے سے انکار کرتے ہو تو گویا فطرت کا انکار کرتے ہو۔راست بازی کس چیز کا نام ہے۔فرض کرو تمہارے سامنے پہاڑ کا ایک ٹیلہ ہے تو تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ ایک گدھا ہے۔