مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 568

568 کچھ آرام آگیا تھا لیکن خطبہ سے دوبارہ تکلیف شروع ہو گئی ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں گر داڑتی ہے اور گرد کھانسی کے لئے مہلک ہوتی ہے۔اس لئے باوجود اس خواہش کے کہ میں اکثر وقت یہاں گزاروں میں ایسا نہیں کر سکوں گا۔نائب صدر میری جگہ پر کام کریں گے سوائے ان وقتوں کے جن میں میں یہاں ٹھہرنے کا فیصلہ کروں یا میری صحت مجھے ٹھرنے کی اجازت دے۔اس لئے میں خدام کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جب وہ کوئی اور کام نہ کر رہے ہیں اور وہ مجھے یہاں آتا دیکھیں تو وہ اپنی آنکھیں اسی طرح بند کر لیں کہ گویا انہوں نے مجھے دیکھا ہی نہیں۔اگر وہ مجھے دیکھ کر میری طرف بھاگیں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ گر داڑے گی او۔میں بیمار ہو جاؤں گا اور آئندہ اجتماع میں شریک نہ ہو سکوں گا۔سوائے دو تین اشخاص کے جو میرے ساتھ آنے اور جانے کے لئے مقرر ہیں ، دوسرے خدام کو میرے ساتھ نہیں چلنا چاہئے بلکہ اگر مخصوص عملہ کے سوا کوئی اور شخص میرے ساتھ آرہا ہو تو انہیں چاہئے کہ اسے الگ کر کے سمجھا دیں کہ اس کا اس طرح میرے ساتھ جانا منع ہے اور پرائیویٹ سیکرٹری کو چاہئے کہ وہ میرے ساتھ آنے والے مخصوص عملہ پر مخصوص لیبل لگا دیں تاکہ ان کے علاوہ اگر کوئی اور شخص میرے ساتھ آ رہا ہو تو کار کن اس کو ہٹا سکیں۔اس کے بعد میں خدام الاحمدیہ کو ان کے ان مستقل فرائض کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو اسلام کی ابتداء سے ان پر عائد ہوتے ہیں لیکن مختلف وقتوں میں لوگ انہیں بھول جاتے رہے ہیں اور انہیں یاد کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں مبعوث ہوتے رہے ہیں۔نمازوں کے طریق بدلتے رہے ہیں۔اعمال کی تفصیلات بدلتی رہتی ہیں۔روزوں کے طریق بدلتے رہے ہیں۔حج کی جگہیں بھی بدلتی رہی ہیں۔حج کی کیفتیں بھی بدلتی رہی ہیں۔زکوۃ کے طریق بھی بدلتے رہے ہیں اور زکوۃ کے نصاب بھی بدلتے رہے ہیں لیکن بعض ایمانی اعتقادی اور عملی اصول ایسے ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک ایک ہی رہے ہیں اور قیامت تک ایک ہی رہیں گے۔نہ حضرت آدم علیہ السلام نے ان کے خلاف کیا نہ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کے سوا کوئی اور تعلیم دی ، نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے انحراف کیا نہ حضرت موسیٰ اور نہ حضرت عیسی علیهما السلام نے ان سے الگ ہو کر تعلیم دی اور نہ رسول کریم میں اللہ نے ان سے جداگانہ تعلیم دی۔حضرت آدم علیہ السلام سے رسول کریم می اید و یا تک اور رسول کریم میں لایا اور سے لے کر قیامت تک وہ اصول ایک ہی ہیں اور ایک ہی رہیں گے لیکن بعض زمانے ایسے آتے ہیں جب لوگ ان اصولوں کو بھول جاتے ہیں اور بعض زمانے ایسے آتے ہیں جب مومنوں کو بڑے تعمد اور سختی کے ساتھ ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان اصولوں میں سے پہلی چیز ایمان ہے۔ایمان کی اسلامی تشریح تو یہ ہے کہ انسان اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهدان محمدا عبده ورسوله کے فارمولا پر جس کو عربی میں کلمہ کہتے ہیں یقین اور ایمان رکھے۔لیکن دیکھ لو جب یہ کہا جاتا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے یا اسلام کیا چیز ہے تو تم کلمہ شہادت پڑھتے ہو اور کہتے ہو اس پر ایمان اور یقین رکھنا۔جس سے معلوم ہوا کہ ایمان اور چیز ہے اور کلمہ شہادت اور چیز