مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 558
558 دينِي وَ مَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِى فَاصْرِفُهُ عَتِي وَ اصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدِرُ لِي الْخَيرَ حَيْتُ كَان تم ارضِنِي بِه - یعنی اے میرے رب جو کام میں کرنے لگا ہوں یا جو علم میں حاصل کرنے لگاہوں یا جو ذمہ داری میں اٹھانے لگا ہوں اس کے بارہ میں تجھ سے جو میری مخفی طاقتوں سے بھی واقف ہے، اپنے زمانہ حال کے متعلق ارادوں سے بھی واقف ہے اور میری ذاتی ، قومی ، ملکی اور عالمگیری ضرورتوں اور ذمہ داریوں سے بھی واقف ہے ، سب سے بهتر فیصلہ طلب کرتا ہوں اور پھر تجھ سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ اس فیصلہ کے مطابق مجھے کام کرنے کی تجھ سے توفیق اور امداد حاصل ہو اور تیسری بات تجھ سے یہ طلب کرتا ہوں کہ جو بات میرے لئے مناسب ہو اور جس کی طرف تو میری راہنمائی کرے اور جس کے حاصل کرنے کے لئے تو میری مدد کرے ، اس کام یا اس ذمہ داری کے ادا کرنے میں تیرا انتہائی فضل مجھ پر نازل ہو اور میں اس کام میں ادنیٰ مقام حاصل نہ کروں بلکہ مجھے اس میں اعلیٰ مقام حاصل ہو۔میں تجھ سے یونہی اور بلاوجہ درخواست نہیں کرتا بلکہ اس وجہ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ جن امور کے پورا کرنے کی مجھے طاقت نہیں، تجھے ہے اور جن مخفی باتوں کا مجھے علم نہیں ، تجھے ہے۔پس اے خدا! اگر تیرے علم میں وہ کام جو میں کرنا چاہتا ہوں میرے لئے اچھا ہے ، میری دینی ضرورتوں کے لحاظ سے بھی اور اس لحاظ سے بھی کہ جو طاقت اور محنت میں اس کام میں خرچ کروں گا اس کا نتیجہ مجھے زیادہ سے زیادہ اچھا حاصل ہو سکے گا تو پھر تو تو اس کام کے کرنے کی مجھے توفیق عطا فرما اور اس کام کو اعلیٰ درجہ کی تکمیل تک پہنچانے کے لئے مجھے سہولت بخش اور اس کے نتائج کو میرے لئے وسیع سے وسیع تر بنا اور اگر اس کے برخلاف تیرے علم میں یہ ہو کہ یہ کام میرے لئے مناسب نہیں ، دین کے لحاظ سے یا اس لحاظ سے کہ میری محنت کے مطابق اس سے نتیجہ پیدا نہ ہو گاتو تو اس کام کے راستہ میں روکیں ڈال دے اور میرے دل میں بھی اس سے بے رغبتی پیدا کر دے اور اس کے سوا جس امر میں میرے لئے بہتری ہے ، اس کے سامان میرے لئے پیدا کر دے اور اس کی طرف میری توجہ پھیر دے اور اس کی خواہش میرے دل میں پیدا کر دے۔یہ دعا کتنی کامل ہے اور اس میں کس لطیف پیرایہ میں اس امر کی طرف دلائی گئی ہے کہ ہر اچھا کام ہر زمانہ اور انسان کے لئے مفید نہیں ہو تا بلکہ اچھے سے اچھا کام بھی بعض زمانوں میں اچھا نہیں رہتا اور اچھے سے اچھا کام بھی بعض قوموں اور بعض افراد کے لئے اچھا نہیں ہو تا۔پس اپنی محنت کے اعلیٰ سے اعلیٰ پھل حاصل کرنے کے لئے انسان کو وہ کام اختیار کرنا چاہئے جو اس کے لئے اور اس کی قوم کے لئے اور بنی نوع انسان کے لئے اس زمانہ میں مفید ہو اور جسے اعلیٰ طور پر بجالانے کی اس میں ذاتی قابلیت موجود ہو۔اگر یہ نہ ہو تو اسے وہ کام یا علم کسی دوسرے بھائی کے لئے چھوڑ دینا چاہئے اور خود اپنے لئے اپنے مناسب حال کام یا علم تلاش کرنا چاہئے لیکن چونکہ بنی نوع انسان کی ترقی کا معاملہ انسانی جد و جہد اور اس کی دماغی قابلیتوں کے علاوہ خدا تعالیٰ کے صفات کے ظہور کے موجود الوقت مرکز کے ساتھ